لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی) سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر مختار حسین سید نے کہا ہے کہ لیہ کے تمام سیاستدان، میڈیا اور سول سوسائٹی اس امر کا نوٹس لیں کہ موجودہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لیہ کو بند کر کے جنرل ہسپتال چلانے کی سوچ بچار کی جا رہی ہے، جو ضلع لیہ کے عوام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل ہسپتال میں نئے ڈاکٹرز اور سٹاف بھرتی کرنے کے بجائے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سٹاف کو شفٹ کر کے جنرل ہسپتال کی اوپننگ کے لیے صلاح مشورے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرز کا ماڈل ضلع میانوالی میں اپنایا جا چکا ہے، جہاں ڈسٹرکٹ ہسپتال کو منتقل کر کے جنرل ہسپتال شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں میانوالی کے ہیلتھ مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ گئے۔ڈاکٹر مختار حسین سیدنے مطالبہ کیا کہ لیہ کے تمام سیاستدان، خواہ ان کا تعلق حکومتی یا اپوزیشن جماعتوں سے ہو، فوری طور پروزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں تاکہ **ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو اپنی موجودہ جگہ پر برقرار رکھتے ہوئے جنرل ہسپتال کو متبادل سہولت کے طور پر شروع کیا جا سکے، جس سے ضلع لیہ کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال لیہ میڈیکل کالج کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھکر میں بھی میڈیکل کالج منصوبہ کئی سال صوبائی بجٹ میں شامل رہنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کر سکا، اس لیے لیہ کے عوام کو میڈیکل کالج کے انتظار سے پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کے عہدے پر فائز تھے تو لیہ، میانوالی سمیت پنجاب کے پانچ اضلاع میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال قائم کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں حکومتی تبدیلی کے بعد مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو ختم کر کے جنرل ہسپتال شروع کر دیا گیا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ لیہ کے عوام، سیاستدان اور سماجی حلقے مل کرڈی ایچ کیو ہسپتال لیہ کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
