اسلام آباد۔: معروف موسیقار غلام احمد چشتی المعروف بابا چشتی کی آج 119ویں سالگرہ منائی گئی۔17 اگست 1905 کو جالندھر میں پیدا ہونے والے باباچشتی کو بچپن میں ہی موسیقی کا شوق ہو گیا۔ جب بابا چشتی 1934 میں لاہور آئے تو سٹیج ڈرامے کے ڈائریکٹر آغا حشر کاشمیری سے ان کی ملاقات ہوئی ، جنہوں نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ آغا حشر کاشمیری کے زیر اثر بابا چشتی نے موسیقی کی پیچیدگیاں سیکھنا شروع کیں اور ان کے ساتھ تربیت حاصل کی۔آغا حشر کاشمیری کی وفات کے بعد بابا چشتی نے ایک ریکارڈنگ کمپنی جوائن کی اور خود کمپوزنگ شروع کی۔ ان کے پہلے ریکارڈوں میں تقسیم سے پہلے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے ریکارڈ شامل ہیں۔بابا چشتی نے ملکہ ترنم نور جہاں کو 1935 میں اس وقت لاہور کے سٹیج پر متعارف کرایا تھا جب وہ 9 سال کی تھیں۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اپنی کمپوزیشن کے لیے مشہور ہوئے۔ انہوں نے 1949 میں پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے بطور موسیقار اپنی خدمات پیش کیں۔انہوں نے 1949 میں تین فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔نور جہاں کے علاوہ سلیم رضا، مالا، نسیم بیگم، مسعود رانا اور پرویز مہدی بھی ان کی ہی دریافت تھے۔غلام احمد چشتی کو 1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ برائے فنون سے نوازا گیا۔غلام احمد چشتی المعروف بابا چشتی 89 سال کی عمر میں 25 دسمبر 1994 کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر موسیقی اور شو بز انڈسٹری کے زیر انتظام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور بابا چشتی کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔