تحریر ۔محمد یوسف لغاری
ترقی کا سفر دراصل اس سوچ سے جنم لیتا ہے جو اپنے وسائل کو پہچاننے، انہیں بہتر انداز میں استعمال کرنے اور عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ جب قیادت اپنے صوبے کے قدرتی وسائل، نوجوانوں کی صلاحیت اور کاروباری طبقے کی استعداد کو یکجا کرنے کی کوشش کرے تو ترقی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب کی جانب سے پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم کا آغاز بھی اسی سوچ کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
پنجاب کے پہاڑوں میں قدرت نے پنک سالٹ کی صورت میں ایک ایسا خزانہ چھپا رکھا ہے جس کی دنیا بھر میں اپنی ایک پہچان ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ اس قدرتی نعمت کو خام مال کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے جدید پراسیسنگ، خوبصورت پیکنگ، مؤثر برانڈنگ اور عالمی مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی مضبوط تجارتی شناخت بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسی ضرورت کو محسوس کیا اور پنک سالٹ کو ایک مکمل پاکستانی برانڈ کے طور پر دنیا کے سامنے لانے کا عزم ظاہر کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے اس مقصد کے لیے پانچ ارب روپے کے بلاسود قرضوں پر مشتمل پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم متعارف کرائی ہے۔ اس سکیم کے تحت کاروباری افراد کو پانچ کروڑ روپے تک قرض فراہم کیے جائیں گے جبکہ قرضوں پر ایک ارب 45 کروڑ 60 لاکھ روپے کا سود حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ یکم اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے سکیم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 10 کاروباری افراد میں بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کیے۔
یہ اقدام محض ایک مالی سہولت نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرنے اور پنجاب کے معدنی وسائل کو معیشت کا فعال حصہ بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ ایک نوجوان جس کے پاس ہنر، جذبہ اور کاروباری سوچ تو موجود ہو مگر سرمایہ نہ ہو، ایسے بلاسود قرضے اس کے لیے ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا وژن اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے کہ وہ پنک سالٹ کو صرف کان سے نکلنے والی معدنیات کے طور پر نہیں دیکھتیں بلکہ اسے پاکستان کی عالمی شناخت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہوئی پراڈکٹ سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام مال نہیں بلکہ پاکستان کا برانڈڈ پنک سالٹ فروخت کیا جائے گا۔ یہی سوچ کسی بھی قدرتی وسیلے کو حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کر سکتی ہے۔
قائد آباد میں 110 ایکڑ پر پنک سالٹ پراسیسنگ یونٹ کو خصوصی صنعتی کلسٹر کے طور پر قائم کرنے کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ پنک سالٹ منرل پروسیسنگ زون میں 200 ویلیو ایڈیشن یونٹس قائم کیے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔ بریفنگ کے مطابق اس صنعتی سرگرمی کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔
یہ اعداد و شمار اپنے اندر ایک پوری معاشی کہانی رکھتے ہیں۔ ایک پہاڑ سے نکلنے والا قدرتی وسیلہ جب پراسیسنگ یونٹ تک پہنچتا ہے تو وہاں سے روزگار کا سفر شروع ہوتا ہے۔ پھر پیکنگ، برانڈنگ، ٹرانسپورٹ، مارکیٹنگ اور برآمدات کے مراحل آتے ہیں اور یوں ایک معدنی وسیلہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے معاشی مستقبل سے جڑ جاتا ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق پنک سالٹ کی ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور نئی مصنوعات کے ذریعے سالانہ برآمدات میں 300 ملین تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو پنک سالٹ پنجاب کی صنعتی اور برآمدی معیشت میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ کا ایک اہم پہلو نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم میں نئے اسٹارٹ اپس کے لیے نوجوانوں کی معاونت کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت پنجاب نوجوان نسل کو صرف ملازمت کے متلاشی افراد کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کے کاروباری افراد اور صنعت کاروں کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں جاری مختلف اقدامات کے پس منظر میں پنک سالٹ کا یہ منصوبہ بھی اسی وسیع تر سوچ کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس میں صوبے کے ہر دستیاب وسیلے کو عوامی فائدے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبے جاری ہیں تو دوسری طرف صنعت، کاروبار، زراعت، نوجوانوں اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں نئے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔
پنک سالٹ پاکستان کی قدرتی پہچان ہے۔ دنیا بھر میں اگر ایک خوبصورت پیکنگ میں موجود پنک سالٹ کے ساتھ پاکستان کا نام بھی ایک مضبوط برانڈ کے طور پر نمایاں ہو تو یہ صرف ایک کاروباری کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ملک کے قدرتی وسائل کو قومی شناخت سے جوڑنے کا ایک خوبصورت سفر بھی ہوگا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستان کا پنک سالٹ پہاڑوں میں چھپے سونے کے مترادف ہے، دراصل اس وسیلے کی اصل قدر کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ قدرت نے ہمیں وسائل دیے ہیں، اب انہیں دانش مندی، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ معاشی خوشحالی میں بدلنا ہماری ذمہ داری ہے۔
پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ سکیم اسی ذمہ داری کی جانب ایک قدم ہے۔ اگر بلاسود قرضوں سے نئے کاروبار قائم ہوتے ہیں، صنعتی کلسٹر فعال ہوتا ہے، نوجوانوں کو مواقع ملتے ہیں، روزگار میں اضافہ ہوتا ہے اور پاکستانی پنک سالٹ اپنی برانڈ شناخت کے ساتھ عالمی منڈی میں جگہ بناتا ہے تو پنجاب کے پہاڑوں میں چھپا یہ گلابی خزانہ واقعی ہزاروں گھروں کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے اور شاید یہی ایک درد رکھنے والی قیادت کی خوبصورتی ہے کہ وہ صرف موجودہ مسائل کو حل کرنے پر نہیں رکتی بلکہ ان امکانات کو بھی تلاش کرتی ہے جن سے آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی پنک سالٹ کے حوالے سے یہ کاوش اسی امید، اسی وژن اور اسی احساسِ ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے۔







