لیہ: ضلع لیہ میں سرکاری اراضی کے تحفظ اور واگزاری کے حوالے سے دسمبر 2025 سے ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 24 ہزار 65 کنال سرکاری اراضی مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں ریاست کے نام بحال اور واگزار کرائی گئی ہے، جس کی تخمینی مالیت تقریباً 9 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کے مطابق 22 ہزار 385 کنال 10 مرلہ سرکاری اراضی، جو مختلف افراد کے حق میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ایڈجسٹ کی گئی تھی، عدالتی فیصلوں اور محکمہ مال کی کارروائی کے نتیجے میں ریاست کے نام بحال کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے زیر التوا ریونیو کورٹس اور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر مسلسل فالو اَپ اور مانیٹرنگ کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنایا گیا، جبکہ سرکاری اراضی کا عملی قبضہ واپس لینے کا عمل بھی جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق جاری نیب انکوائری کے دوران ریویو کارروائی کے ذریعے مزید ایک ہزار 679 کنال سرکاری اراضی بھی ڈسٹرکٹ کلیکٹر کے ریویو احکامات کی روشنی میں ریاست کے نام بحال کی گئی ہے۔
آصف علی ڈوگر نے کہا کہ ضلع لیہ میں مجموعی طور پر 24 ہزار 65 کنال، تقریباً 3 ہزار 8 ایکڑ سرکاری اراضی ریاستی ملکیت میں محفوظ و بحال کی گئی ہے، جس کی دستیاب تخمینے کے مطابق مالیت تقریباً 9 ارب روپے بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی کے تحفظ، غیر قانونی انتقالات و ایڈجسٹمنٹس کے خاتمے اور ریاستی املاک کی واگزاری کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ بوگس انتقالات، غیر قانونی ایڈجسٹمنٹ اور فراڈ میں ملوث سرکاری و نجی افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی اور کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔






