لیہ : ڈپٹی کمشنر لیہ آصف علی ڈوگر نے موضع سمرا نشیب جنوبی کا دورہ کیا اور دریائے سندھ کے کٹاؤ سے متاثرہ بستی گرمانی سمیت دیگر علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لیہ زوہیب کریم، سابق ایم پی اے عبدالشکور سواگ اور ایکسین انہار حفیظ احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل و مشکلات دریافت کرتے ہوئے متعلقہ افسران سے موقع پر بریفنگ بھی لی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر نے کہا کہ دریائے سندھ کے کٹاؤ کے تدارک کے لیے عارضی اور مستقل بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔ بستی کنجال کے مقام پر 10 سٹڈ بند تعمیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ پانی کا رخ موڑنے کے لیے بیلے کو کیونٹ لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے دریائے سندھ کے کٹاؤ کے مستقل تدارک کے لیے مختلف تجاویز اعلیٰ حکام کو بھجوائی گئی ہیں، جن میں بھکر سے لیہ تک حفاظتی بند کی تعمیر کی تجویز بھی شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں دریائی کٹاؤ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ متاثرہ آبادیوں کے مسائل کے حل اور انہیں دریائی کٹاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایکسین انہار حفیظ احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بستی حسن خان کے تحفظ کے لیے بھی 10 سٹڈ بند تعمیر کرنے کی منظوری مل چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے علاقے کو دریائی کٹاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے امبریلا اپروول بھی مل گئی ہے، جس کے بعد ٹیکنیکل اپروول کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ انہار کی جانب سے جہاں ضروری ہوا، متعلقہ سکیم حکومت پنجاب کو فوری ارسال کر دی جائے گی۔ بستی گرمانی اور دیگر آبادیوں کو دریائی کٹاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کے قیام کی سکیمیں بھی حکومت پنجاب کو ارسال کی جا رہی ہیں۔






