لیہ:ضلع لیہ کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت، اپوزیشن سیاست کے دیرینہ رہنما اور ایم پی اے سٹی لیہ اسامہ اصغر گجر کے والد چوہدری اصغر علی گجر ایڈووکیٹ انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ آبائی علاقہ چک نمبر 156 ٹی ڈی اے میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں، ارکان اسمبلی، سابق وزراء، سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں جماعت اسلامی جنوبی پنجاب کے امیر ذیشان اختر، ایم پی اے شہاب الدین خان سیہڑ، ایم پی اے شعیب امیر اعوان، ایم پی اے چوہدری اطہر مقبول، ایم این اے اویس جکھڑ، سابق ایم این اے بہادر احمد خان، سابق صوبائی وزیر ملک احمد علی اولکھ،ملک افتخار جکھڑ،ملک ہاشم حسین سہو،سابق صوبائی وزیر مہر اعجاز اچلانہ، سابق ایم پی اے افتخار بابر کھتران، سابق ایم پی اے سید رفاقت گیلانی، سابق ایم این اے سید ثقلین شاہ بخاری، سابق ایم این اے صاحبزادہ فیض الحسن سواگ، غلام شبیر ایڈووکیٹ، ملک عباس بپی، چوہدری اعجاز گل، خالد محمود ارائیں، سابق ایم پی اے چوہدری اشفاق احمد،ملک عثمان اولکھ سمیت ضلع بھر کی سیاسی، سماجی و علاقائی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
چوہدری اصغر علی گجر ایڈووکیٹ کا شمار ضلع لیہ میں 1980ء کی دہائی میں اپوزیشن سیاست کے اولین اور نمایاں رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ضلع لیہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی اپنی سیاسی جدوجہد، مؤثر انداز گفتگو اور عوامی رابطے کے ذریعے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ جماعت اسلامی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بھی رہے اور اپنی سیاسی زندگی کے دوران حزب اقتدار کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر اپوزیشن آواز سمجھے جاتے رہے۔
مرحوم کی سیاسی جدوجہد کا نمایاں پہلو عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور سیاسی کارکنوں سے مسلسل رابطے میں رہنا تھا۔ سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق چوہدری اصغر علی گجر ایڈووکیٹ بااصول، بے باک اور مضبوط سیاسی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے انتقال سے ضلع لیہ کی سیاسی، سماجی اور وکلاء برادری بالخصوص اپوزیشن سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔
نماز جنازہ کے موقع پر مرحوم کے صاحبزادے ایم پی اے اسامہ اصغر گجر نے شرکت کرنے والے تمام افراد، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی۔






