لیہ( نمائندہ لیہ ٹی وی) ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ڈویلپمنٹ اینڈ لاء اینڈ آرڈر کا اجلاس ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ سابق صوبائی وزیر مہر اعجاز احمد اچلانہ اجلاس کے کنوینر تھے۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن جاوید بھٹی، سابق پارلیمنٹیرینز چوہدری طاہر رندھاوا، عبدالشکور سواگ، نمائندگان سید نور اکبر بخاری، وسیم الحسن سواگ، ملک عثمان علی اولکھ، قاضی احسان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شبیر احمد ڈوگر، اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی جبکہ مشیر وزیر اعظم بدر شہباز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع میں 17 جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن پر 19 ہزار 463 ملین روپے لاگت آئے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جنرل ہسپتال پر تیزی سے کام جاری ہے جسے ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ضلع میں 6 بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور 16 گورنمنٹ رورل ڈسپنسریوں کی ری ویمپنگ کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ضلع میں تقریباً 9 ارب روپے کے پی ڈی پی پروگرام کے تحت سیوریج، ڈرینیج، ٹف ٹائلز، پارکس کی تعمیر، مرمت اور تزئین و آرائش کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں ڈھائی لاکھ گیلن گنجائش کے بارش کے پانی کے اسٹوریج ٹینک کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پی ڈی پی کے دوسرے مرحلے میں لیہ شہر کو درکار 120 کلومیٹر طویل سیوریج لائن پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پارک اپنائیں مہم کے تحت فتح پور میں تین پارکس قائم کیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں گزشتہ برس کی نسبت 48 فیصد، موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 69 فیصد جبکہ مویشی اور دیگر چوری کی وارداتوں میں 37 فیصد کمی آئی ہے۔ رواں سال اب تک 1221 اشتہاری مجرمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔اجلاس میں مہر اعجاز احمد اچلانہ کی نشاندہی پر جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے اور تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ محمد طاہر رندھاوا کی تجویز پر چوک اعظم میں سپورٹس گراؤنڈ میں شجرکاری کروانے کی ہدایت کی گئی۔ ملک عثمان علی اولکھ کی نشاندہی پر ضلع کے گندم خریداری کے کوٹے پر نظرثانی کرنے اور کاشتکاروں کو غیر ضروری طور پر تنگ نہ کرنے کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ عبدالشکور سواگ کی تجویز پر نشیبی علاقوں میں ضروری اقدامات اٹھانے اور متعلقہ اداروں کو مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔






