سکھر: شہید سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے شہید شاہنواز بھٹو کی 41ویں برسی کے موقع پر ان کی صاحبزادی سسئی بھٹو 41 سال بعد پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ 44 سالہ سسئی بھٹو، جو اپنی والدہ ریحانہ بھٹو کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں، اس مرتبہ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی مہمان کے طور پر وطن آئی ہیں۔
سسئی بھٹو، شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کی چچا زاد اور خالہ زاد بہن بھی ہیں۔ دونوں کے والد میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو سگے بھائی جبکہ ان کی والدہ فوزیہ اور ریحانہ سگی بہنیں ہیں۔
تاریخی طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی اختیار کر گئے تھے، جہاں انہوں نے 1980 میں "پاکستان لبریشن آرمی” قائم کی، جس کا نام بعد میں **الذوالفقار** رکھا گیا۔ میر مرتضیٰ بھٹو اس تنظیم کے سربراہ جبکہ شاہنواز بھٹو آپریشنل چیف تھے۔
18 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر کانز میں شاہنواز بھٹو پراسرار حالات میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت انتہائی خطرناک زہر کے باعث ہوئی تھی۔ اس وقت فلیٹ میں ان کی اہلیہ ریحانہ بھٹو اور کم عمر سسئی بھٹو موجود تھیں۔ فرانسیسی پولیس نے تفتیش کے لیے ریحانہ بھٹو کو حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
بھٹو خاندان میں کراچی کی 70 اور 71 کلفٹن سمیت لاڑکانہ اور نوڈیرو کی جائیدادوں کی تقسیم کا تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ سسئی بھٹو نے 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک بیان میں 71 کلفٹن اور نوڈیرو کی زرعی اراضی پر اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حقوق ان سے ناانصافی کے ساتھ چھینے گئے۔
سیاسی و خاندانی حلقوں میں اس بات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ سسئی بھٹو نے اس بار فاطمہ بھٹو یا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری کی میزبانی قبول کی ہے۔ تاہم یہ بات کہ آیا اس فیصلے کا تعلق جائیداد کے تنازع یا کسی سیاسی حکمتِ عملی سے ہے، محض تجزیوں اور آراء پر مبنی ہے اور اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔





