اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس نے ایوان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے انہیں ایک خط لکھا ہے اور اس معاملے پر بات چیت ہونی چاہیے۔اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تنہائی میں مولانا فضل الرحمٰن سے جو بات کی ہے، وہ اسے قبر میں لے جائیں گے لیکن کبھی کسی کو نہیں بتائیں گے۔وزیرِ اعظم کے اس بیان پر ایوان میں دلچسپی کی فضا پیدا ہوگئی، جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ وہ بات ایوان میں بتا دیں۔تاہم وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مولانا کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بات بتا دی گئی تو معاملات اتنے دور چلے جائیں گے کہ پھر واپس نہیں آئیں گے۔وزیرِ اعظم اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والے اس دلچسپ تبادلۂ خیال پر ایوان میں قہقہے بھی گونجتے رہے جبکہ ارکان اسمبلی نے اس مکالمے کو دلچسپی سے سنا۔







