لاہور: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹیکسٹائل ملز مالکان کے درمیان نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس چوری کی روک تھام اور پیداوار کی مؤثر نگرانی کے لیے ٹیکسٹائل ملز میں کیمرے نصب کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ تاہم ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ کیمروں کی تنصیب اور ان کے اخراجات ملز مالکان خود برداشت کریں گے۔دوسری جانب آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) سمیت ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ مالکان نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ملز مالکان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا ایف بی آر نگرانی کے لیے کیمرے نصب کرنا چاہتی ہے تو اس کا خرچ بھی متعلقہ ادارہ خود برداشت کرے۔ صنعتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ زبردستی کیمروں کی تنصیب کی صورت میں فیکٹریاں بند کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اگر نگرانی کا نظام متعارف کرانا مقصود ہے تو اسے صرف ٹیکسٹائل ملز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ملک بھر کی جننگ اور اسپننگ ملز کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں 1200 سے زائد جننگ اور اسپننگ ملز موجود ہیں جہاں نگرانی کے ذریعے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اس تنازع کے حل کے لیے ایف بی آر اور صنعتکاروں کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہے تاکہ ٹیکس وصولی کے اہداف اور صنعتی سرگرمیوں کے تسلسل کو بیک وقت یقینی بنایا جا سکے۔






