تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
جن خطّوں کی مٹی علم، تہذیب، شعور اور دانش کے چراغ روشن کرتی ہے، وہاں کچھ شخصیات ایسی بھی پیدا ہوتی ہیں جو اپنے علم، کردار، تدریسی وقار اور تحقیقی بصیرت کے باعث پورے عہد کی شناخت بن جاتی ہیں۔ ضلع لیہ میں اگر علومِ کیمیا کے میدان میں کسی معتبر اور روشن حوالہ کا ذکر کیا جائے تو پروفیسر ڈاکٹر جویریہ بتول کا نام نہایت احترام اور وقار سے لیا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک کامیاب معلمہ یا محقق ہی نہیں بلکہ ایک مکمل علمی و تہذیبی شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق، اخلاق، سماجی شعور اور علمی خدمت کے ذریعے اپنی الگ پہچان قائم کی ہے۔
لیہ میں ایک ایسا علمی خانوادہ بھی موجود ہے جسے بجا طور پر “کیمسٹری ہاؤس” کہا جا سکتا ہے۔ پروفیسر نیک محمد چودھری، صدر شعبہ کیمسٹری، گورنمنٹ کالج لیہ اور ان کی اہلیہ پروفیسر ڈاکٹر جویریہ بتول، چیئرپرسن شعبہ کیمسٹری، گورنمنٹ کالج برائے خواتین لیہ، دونوں ایسی علمی شخصیات ہیں جنھیں علومِ کیمیا میں “لیجنڈ” کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ گھرانہ علم، شائستگی، تہذیب، محنت اور فکری بالیدگی کا خوب صورت استعارہ ہے۔ ان کے فرزند محمد عمر علی اور صاحبزادی فاطمہ زہرا بنت نیک محمد بھی اعلیٰ تعلیم اور عمدہ اخلاق کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔
فاطمہ زہرا اپنی غیر معمولی ذہانت اور علمی قابلیت کی بنیاد پر آغا خان میڈیکل کالج کراچی میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ سائنسی علوم کے ساتھ شعر و ادب اور سماجی علوم میں بھی گہرا مطالعہ رکھتی ہیں۔ ان کی فکری پختگی اور علمی وقار کا اندازہ ان کے اس شعر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
“خدمتِ علم و ادب میں رہے محو اس قدر
ہم پردہ پوش رہتے ہیں القاب سے دور”
ڈاکٹر جویریہ بتول کا تعلق ایسے علمی اور ادبی خانوادے سے ہے جس نے قومی سطح پر اپنی فکری خدمات کا اعتراف کرایا۔ ان کے خاندان میں علم، تحقیق، تدبر اور ادب ایک روایت کی صورت رکھتے ہیں۔ یحییٰ امجد جیسے سنجیدہ محقق اور بیوروکریٹ نے تاریخِ پاکستان پر نہایت مستند اور وقیع کام کیا۔ ان کے نانا ابو سرمدی مظاہری معروف شاعر اور ادیب تھے۔ والد محترم ملک بشیر احمد ماہرِ تعلیم ہونے کے ساتھ قادرالکلام شاعر بھی تھے جبکہ والدہ بھی شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہیں،اپ کی والدہ محترمہ حفیظہ بشیر وفا صاحب اسلوب مصنفہ تھیں۔”سوغات اشک”ان کی معروف کتاب ہے۔ ان کے والد کا یہ شعر آج بھی فکری اور سماجی شعور کی عمدہ ترجمانی کرتا ہے:
“یوں تو میرے خلوص کی قیمت بھی کم نہ تھی
کچھ کم شناس لوگ تھے، دولت پہ مر گئے”
ڈاکٹر جویریہ بتول 1978ء میں ملتان میں پیدا ہوئیں مگر شادی کے بعد لیہ کو اپنا مستقل وطن تسلیم کیا اور اس دھرتی کی علمی فضا میں اپنی صلاحیتوں کے چراغ روشن کیے۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کی ذہانت، محنت اور تعلیمی برتری نمایاں تھی۔ انھوں نے اپنی ہر سند اور ڈگری نمایاں پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔ ایم ایس سی کیمسٹری میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ مجموعی طور پر اب تک پانچ گولڈ میڈلز ان کے نام ہو چکے ہیں۔ یہ اعزازات صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ان کی علمی ریاضت، مسلسل محنت اور موضوع سے گہری وابستگی کا ثبوت ہیں۔
سال 2026ء میں “بیسٹ ٹیچر ایوارڈ” حاصل کرنا بھی ان کی تدریسی عظمت کا واضح اعتراف ہے۔ وہ ایک ایسی استاد ہیں جو صرف نصاب نہیں پڑھاتیں بلکہ اپنے شاگردوں میں سوچنے، سوال کرنے اور تحقیق کی عادت پیدا کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں ہمیشہ علم، فکر اور تازگی کا عنصر نمایاں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے طلبہ انھیں صرف استاد نہیں بلکہ ایک مشفق راہنما سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر جویریہ بتول نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر علومِ کیمیا کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کیا اور اپنے تحقیقی مقالات کے ذریعے کیمسٹری کے مضمون کو علمی طور پر مزید ثروت مند بنایا۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالے مختلف علمی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے مضمون میں جدید رجحانات، نئے نظریات اور تحقیقی امکانات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ یہی تحقیقی مزاج انھیں ایک متحرک اور زندہ ذہن رکھنے والی دانشور استاد بناتا ہے۔
بطور معلمہ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا مشفقانہ اور انسان دوست رویہ ہے۔ وہ ہر طالب علم میں اپنے بچوں کی جھلک دیکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد نہ صرف ان سے علمی استفادہ کرتے ہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت وہ گریڈ 19 میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اف کیمسٹری خدمات انجام دے رہی ہیں اور تعلیمی میدان میں اپنی سنجیدہ علمی حیثیت منوا چکی ہیں۔
ڈاکٹر جویریہ بتول صرف تدریس و تحقیق تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انھوں نے “Dr Jav Organics” کے نام سے ایک برانڈ متعارف کرایا ہے جو ان کے لائق فرزند محمد عمر علی کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ اس برانڈ کے تحت اب تک 23 سے زائد آرگینک اور ہربل مصنوعات متعارف کرائی جا چکی ہیں جنھیں عوامی سطح پر بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ سائنسی علم کو عملی اور معاشرتی سطح پر مفید بنانے کا شعور رکھتی ہیں۔
خواتین کے مسائل، ان کے حقوق اور سماجی حیثیت کے حوالے سے بھی ڈاکٹر جویریہ بتول کی فکر نہایت سنجیدہ اور بالغ نظر ہے۔ وہ “تانیثیت” کے نظریات کو سطحی انداز میں نہیں بلکہ فکری گہرائی کے ساتھ سمجھتی ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کی عزت، تعلیم، خود مختاری اور شعوری تربیت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ اسی لیے وہ طالبات کی کردار سازی اور فکری تربیت پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ عورت کے خاندانی،ذاتی،نفسیاتی اور سماجی مسائل خود عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔
تعلیمی زوال اور گرتے ہوئے معیارِ تعلیم پر ان کی تشویش بھی ایک حساس معلمہ کے درد مند دل کی عکاس ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راستہ صرف معیاری تعلیم، تحقیق اور اخلاقی تربیت سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک قومی اور تہذیبی فریضہ تصور کرتی ہیں۔
ڈاکٹر جویریہ بتول بلاشبہ لیہ میں علومِ کیمیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ ان کی شخصیت علم، تحقیق، تدریس، تہذیب، وقار اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ وہ نئی نسل کے لیے محنت، دیانت، مطالعہ اور مسلسل جدوجہد کی روشن مثال ہیں۔ ایسے اساتذہ کسی بھی معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ صرف کتابیں نہیں پڑھاتے بلکہ نسلوں کی فکری تعمیر کرتے ہیں۔۔ See less






