تحریر: عنایت اللہ کاشف ایڈووکیٹ
لبِ نیلم کا واکنگ ٹریک آج لیہ کی خوبصورت ترین عوامی جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں اطراف سایہ دار درخت، گھنی چھاؤں، خوشگوار فضا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی، چہل قدمی کو ایک خوشگوار تجربہ بنا دیتی ہے۔ شام کے وقت یہ ٹریک صرف واک کرنے والوں کا نہیں رہتا بلکہ مختلف علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کی غیر رسمی بیٹھک میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اسی واکنگ ٹریک پر پروفیسر مزمل حسین سے سرِراہ ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو واٹس ایپ پر بھیجے گئے ان کے کالم کا بھی ذکر آیا جو لیہ کے صحافتی دانشوروں کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔اور اسی طرح میرے مضمون لیہ کی صحافتی یتیمی پر بھی مختصر بات ہوئی چند لمحوں کی اس ملاقات نے ایک بار پھر ان شاموں کی یاد تازہ کر دی جو اس واکنگ ٹریک پر اہلِ علم کی صحبت میں گزرتی ہیں۔
ہماچہ کبھی ہماری دیہی تہذیب کی ایک خوبصورت روایت تھا۔ شام ڈھلے دوست احباب چارپائیوں پر جمع ہوتے، گپ شپ ہوتی، حالاتِ حاضرہ زیرِ بحث آتے، ادب، سیاست اور زندگی پر گفتگو ہوتی۔ وقت کے ساتھ بہت سی روایات کی طرح ہماچہ بھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔ البتہ اس کی جگہ اب کرسیوں نے سنبھال لی ہے۔ روایت ختم نہیں ہوئی، صرف اس کی ہیئت بدل گئی ہے۔
لبِ نیلم کے واکنگ ٹریک پر انہی کرسیوں کے گرد اکثر فریداللہ چوہدری تھلوچی کی سنگت میں پروفیسر مزمل حسین، پروفیسر شیخ مقبول ، شيخ الأدب العربي پروفیسر طارق مومن اور دیگر علمی، ادبی اور فکری شخصیات جمع ہوتی ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، چائے کے دور چلتے رہتے ہیں اور گفتگو کا سلسلہ بھی۔
کبھی مقامی سیاست زیرِ بحث ہوتی ہے تو کبھی عالمی ادب۔ کبھی قدیم غزل سے جدید غزل اور آزاد غزل تک گفتگو پہنچتی ہے، تو کبھی نظمِ معرّیٰ سے سارہ شگفتہ کی شاعری تک۔ ن۔م۔ راشد کی "حسن کوزہ گر”، مجید امجد کی وجودیت، میرا جی کی نفسیاتی الجھنیں، فیض اور ایلس فیض کی رفاقت، فیض اور فراز کی قید و بند کی صعوبتیں—شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جو ان محفلوں میں زیرِ گفتگو نہ آتا ہو۔
میں بھی ان محفلوں میں شریک ہوتا ہوں، لیکن سچ پوچھیں تو مجھے ہمیشہ چائے کی دعوت کا انتظار رہتا ہے، کیونکہ برصغیر میں شاید ہی کوئی ایسی فکری محفل ہو جس کی خوشبو میں چائے شامل نہ ہو۔
لبِ نیلم کی یہ کرسیاں محض بیٹھنے کی جگہ نہیں، بلکہ مکالمے، اختلاف، علم، ادب اور دوستی کی علامت ہیں۔ یہاں گفتگو ختم نہیں ہوتی، ایک موضوع دوسرے موضوع کو جنم دیتا ہے اور ہر شام ایک نئی فکری مسافت کا آغاز بن جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک شام، واپسی کے وقت، ن۔م۔ راشد کی نظم "حسن کوزہ گر” کی یہ سطریں بے اختیار ذہن میں گونجنے لگیں۔ شاید ہر عہد کے سچے اہلِ فکر کی آرزو بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے فن اور اپنے لفظوں سے دلوں کی ویرانی کو روشنی میں بدل دے۔
"تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے، جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
معیشت کے اظہار، فن کے سہاروں کی جانب
کہ میں اس گل و لا سے، اس رنگ و روغن سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
دلوں کے خرابے ہوں روشن!”







