لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی )موجودہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی ریٹائرمنٹ قریب ،دو سابقہ اور ایک موجودہ آئی جی کی کارکردگی پر سروے ، ملک مبشر احمد خان فیورٹ قرار موجودہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے دس سالہ دور تعیناتی اور مرزا شاہد سلیم بیگ کی پانچ سالہ اور ملک مبشر احمد خان کی چار ماہ کی قلیل تعیناتی کے دور کی کارکردگی کے حوالے سےپاک نیٹ ورک سروے میں ملک مبشر احمد خان کی کارکردگی کو سراہنے والوں کی تعداد 70.40فیصد جبکہ موجودہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کی کارکردگی کو محض 8.06فیصد اور مرزا شاہد سلیم بیگ کی کارکردگی سراہے جانے والے افراد کی تعداد 6.29فیصد رہی ،سروے میں جیل خانہ جات کے ملازمین ،قیدیوں کے لواحقین ،سابقہ قیدیوں ،عوامی و سماجی شخصیات نے حصہ لیا ،انہوں نےاپنے چار سالہ عرصہ تعیناتی میں بطور منتظم اپنی نشست کو محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کی امانت سمجھا،سروے میں حصہ لینے والے مذکورہ طبقات نے آئی جی جیل خانہ جات کی نشست پرملک مبشر احمد خان کا استحقاق سمجھا ملک مبشر احمد خان نے چار ماہ کے عرصہ تعیناتی میں ایسی اصلاحات کی بنیادیں رکھیں جو فرائض کی ادائیگی میں مثالی رہیں،انہوں نے انتظامی معیارات اور تقاضوں کو مد نظر رکھا،اصلاح کومقصدیت سے روشناس کرایا، عمر رسیدہ قیدیوں کے لئے ان کے اندر ایک تڑپ پائی جاتی ہے،ایک بوڑھے قیدی کے ساتھ بیٹھ کر اس کے دکھوں میں اپنی ذات کو شریک کیا اور اسے یہ محسوس نہ ہونے دیاکہ اس کے پہلو میں ایک بڑے صوبہ کا منتظم بیٹھا ہے یا انسا نیت کا درد رکھنے والا ایک عام انسان ،جیلوں کے اندر پابند ِ سلاسل نادار اسیر ایسے بھی ہیں جن کی آنکھیں فرش راہ ہوتی ہیں اور ان کو ملنے کیلئے ان کا اپنا کوئی نہیں آتا مگر ان کا دل اپنوں کیلئے ہمکتا ہے،بطور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب ملک مبشر احمد خان دوران وزٹ یہ حکمنامہ جاری کیا کہ ایسے قیدیوں کو ٹیلیفون کی سہولت مفت فراہم کی جائے، اپنے دور میں کچن میں جاکرباقاعدہ کھانے کا معیار چیک کرتے اور وہی کھانا خود تناول کرتے ،یہ باور کرانے کیلئے کہ اسیران کے کھانے کے معیار اور مقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں،ماضی گواہ ہے کہ ملک مبشر احمد خان کی خصوصی ہدایت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام غذائی آگاہی کیمپ کاانعقاد کیا گیا جس میں غذائی ماہرین کی جانب سے اسیران کو انکی غذائی ضروریات کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاتی ۔اسیران کے وزن، قد، گلوکوز لیول، ہڈیوں کی کثافت، کیلشیم لیول اور فیٹس کے معائنہ کے بعد انھیں براہِ راست غذائی ضروریات سے آگاہ کیا گیا۔خواتین اسیران اور بچوں کی غذائی ضروریات پر خصوصی توجہ دی گئی۔اسی کیمپ میں غذائی ماہرین کی جانب سے مناسب خوراک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قیدیوں کو معدے کی خرابی، ہڈیوں کی کمزوری اور موٹاپے جیسے امراض سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر سے بھی آگاہ کیا۔بطور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب ملک مبشر احمد خاں نے پنجاب کی جیلوں میں مقید تمام اسیران کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ٹیکنالوجی کے غذائی ماہرین کے ترتیب شدہ مینو کے مطابق معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
اسیران کی صحت اولین ترجیح قرار پائی کیونکہ صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کا حامل ہوتا ہے۔ جیلوں میں قائم مراکز مسیحائی میں صحت کی بنیادی ادویات کی فراہمی یقینی بنایا اور ان کے دور تعیناتی میں پنجاب کی جیلوں میں 417 میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا، جس میں 4353 ڈاکٹرز نے 44818 اسیران کو صحت کی سہولیات فراہم کیں۔ محکمہ کی بہتری کیلئے دیگر اقدامات میں اپ گریڈیشن سے لیکر تنخواہوں میں اضافے،قیدیوں اور چھوٹے ملازمین کی فلاح و بہبود ،آفیسر اور ایک عام اہلکار کےدرمیان مسائل سننے کیلئے ہمہ وقت دستیابی ،ان کے تبادلہ جات میں پائی جانے والی پیچیدگیوں اور مشکلات کا مداوا کیا،ان کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے وٹس ایپ گروپ کی تشکیل جس میں وٹس ایپ پہ آمدہ درخواستوں پر بر وقت کارروائی کو یقینی بنایا،قیدیوں کے لواحقین کی تکالیف کا احساس کرتے ہوئے ان کی شکایات کا ازالہ کیا،
ان کے اس موقف سے انکار بھلا کون کرسکتا ہے کہ اسیران کا صحت مند جسم و دماغ ان میں مثبت رحجانات پیدا کر کے ذمہ دار شہری بننے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ،سکول،قیدی بیرکس،وطن عزیز میں بچوں کی اکثریت ایسی ہے جنہیں تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات میسر نہ ہونے کی بنا پر بے راہ روی ان کا مقدر بن جاتی ہے معاشرے کے بے رحم تھپیڑے انہیں جرائم کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں،جیل میں ایسے بچوں کی تعلیم تربیت ایک سوالیہ نشان تھی مگر ملک مبشر احمد خان نے نوعمر وارڈ میں ان بچوں کے والدین کے محسوسات کو قریب سے دیکھا اور یہ ان کا خواب تھا کہ سزا بھگتنے کے بعد جیل کی دہلیز پار کرنے والے یہ بچے ایک روشن مستقبل کا پروانہ لیکر روانہ ہوں،ان کا یہ ماٹو کہ ”مقید بچے،ہماری ذمہ داری،ایک عظیم مقصد حیات تھا،ملک مبشر احمد خان کے دور تعیناتی میں سابق چیف جسٹس عدالت عظمیٰ ملک عمر عطا بندیال ،ہائیکورٹ اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جیل وزٹ کے دوران ان کی کارکردگی کو سراہا






