layyah
پیر, اپریل 20, 2026
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل
layyah
No Result
View All Result

خیرپور کا خاموش قتل۔ مرتی انسانیت کی آخری چیخ

عبدالرحمن فریدی by عبدالرحمن فریدی
اپریل 20, 2026
in کالم
0
خیرپور کا خاموش قتل۔ مرتی انسانیت کی آخری چیخ

تحریر ۔ محمد یوسف لغاری

زمانہ کہتا ہے کہ ہم نے ترقی کر لی ہے۔ ہم چاند پر قدم رکھ چکے ہیں، مصنوعی ذہانت نے دنیا کو نئی جہت دے دی ہے، فاصلے سمٹ کر اسکرینوں میں قید ہو گئے ہیں،مگر جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں تو ایک ہولناک سچ سامنے آتا ہے کہ ترقی کے اس شور میں انسان کہیں کھو گیا ہے شعور کے چراغ بجھ چکے ہیں اور ان کی راکھ پر صدیوں پرانی سفاک روایات کا راج قائم ہے۔
یہ وہی دنیا ہے جہاں کبھی عرب کے صحراؤں میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور اس عہد کو "زمانہ جاہلیت” کہا گیا۔ مگر افسوس، صدیاں گزرنے کے باوجود ہم نے صرف طریقہ بدلا ہے، سوچ نہیں۔ آج بھی بیٹیاں دفن ہوتی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اب ریت کی جگہ جرگوں کے فیصلے ہیں اور تلوار کی جگہ ہجوم کی خاموشی۔
ضلع خیرپور، ٹنڈو مستی،سندھ کی وہ سرزمین جہاں صوفیاء کے مزار ہیں، شاہ لطیف کی سُریلی آواز کی گونج ہے، محبت اور درگزر کے گیت ہیں وہیں گزشتہ دنوں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے انسانیت کے چہرے سے نقاب نوچ ڈالی۔ ایک لڑکی، کمزور، بے سہارا، مگر جینے کی خواہش سے لبریز—اس کا “جرم” صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کرنے کی ہمت کی۔
اب اگر ایک لمحے کے لیے اس معاشرے کی سختی اور اس کے بنائے ہوئے اصولوں کو مان بھی لیا جائے،اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ شاید کچھ لوگ اپنی پسند کی شادی کو ناپسند کرتے ہیں،تو بھی کیا یہ کسی انسان کی جان لینے کا جواز بن سکتا ہے؟ کیا کسی اختلاف کی سزا موت ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اس واقعے کے ساتھ ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتا ہےاور جس کا جواب ہر زندہ دل انسان کے پاس “نہیں” کے سوا کچھ نہیں۔
وہ بار بار واسطے دیتی رہی، اپنی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔اسے دھوکے سے بلایا گیا، اپنائیت کا فریب دے کر موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔ اس کے سامنے ایک جرگہ تھا۔سینکڑوں افراد پر مشتمل، مگر انسان ایک بھی نہیں۔ وہ فریاد کرتی رہی، مگر کسی کا دل نہ پسیجا۔ کسی کے ہاتھ نہ رکے، کسی کی آنکھ نہ نم ہوئی۔ اور پھر، اسی ہجوم کے سامنے سب کے سامنے گولی ماری کر اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔ یہ محض ایک قتل نہیں تھا، یہ انسانیت کی اجتماعی موت تھی۔
قارئین سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ جس ادارے نے اسے تحفظ دینا تھا، وہی اسے اس انجام تک لے جانے کا ذریعہ بنا۔ پولیس، جو قانون کی علامت ہے،اگر وہی ایک مظلوم کو ظالم کے حوالے کر دے تو پھر انصاف کہاں جائے؟سوال صرف ایک واقعے کا نہیں، یہ پورے نظام کی روح پر لگنے والا سوالیہ نشان ہے۔
اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے حقِ انتخاب دیا، اس کی رضا کو نکاح کی بنیاد قرار دیا۔ نبی کریم نے عورت کے مقام کو بلند کیا، بیٹی کو رحمت کہا، ماں کے قدموں تلے جنت رکھی۔ مگر ہم نے ان تعلیمات کو کتابوں تک محدود کر دیا اور اپنی مرضی کے "قانون” گھڑ لیے۔ ہم نے دین کو چھوڑ کر رسموں کو اپنا لیا، اور پھر انہی رسموں کے ہاتھوں انسانیت کا گلا گھونٹ دیا۔
اب خبر آتی ہے کہ دو افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ صرف دو۔ مگر وہ سینکڑوں لوگ جو اس ظلم کے گواہ تھے، جو اس جرم کے خاموش شریک تھے کیاوہ سب آزاد ہیں ؟ کیا خاموش رہنا جرم نہیں؟ کیا ظلم کو دیکھ کر چپ رہ جانا اس میں شریک ہونا نہیں؟
سندھ کی مٹی نے لعل شہباز قلندر کو جنم دیا، سچل سرمست کو پالا، شاہ عبداللطیف بھٹائی کو اپنے سینے سے لگایا۔ انہی بزرگوں نے محبت، رواداری اور انسانیت کا درس دیا۔ مگر آج اسی مٹی پر جرگے لگتے ہیں اور بے گناہ خون بہایا جاتا ہے۔ صوفی سرزمین کہلانے کا حق صرف نعروں سے نہیں ملتا، اس کے لیے اپنی بیٹیوں کو تحفظ دینا پڑتا ہے۔
وہ لڑکی جو واسطے دیتی رہی، جس کی آواز جرگے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئی، آج بھی سوال بن کر فضا میں معلق ہے۔ اس کا خون پکار رہا ہے،کیا کوئی ہے جو سن سکے؟ کیا کوئی ہے جو اس روایت کے خلاف کھڑا ہو سکے؟
اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو کل یہ خاموشی ہماری اپنی دہلیز پر ماتم کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔ہم واقعی مہذب ہیں، یا صرف مہذب ہونے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے، ظلم صرف ظالم نہیں کرتااسے زندہ رکھنے میں خاموش تماشائی بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
**

Tags: islamabad newslahore newslayyah newslayyah tvnational urdu news
Previous Post

ڈپٹی کمشنر لَیَّہ کی زیر صدارت آر ٹی اے اجلاس، اوورچارجنگ اور اوورلوڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بس اڈوں کے باقاعدہ معائنے، کرایہ نامے نمایاں آویزاں کرنے اور غیر فٹ گاڑیوں کے خلاف جامع چیکنگ مہم چلانے کی ہدایات

Next Post

تھانہ کوٹ سلطان اور تھانہ سٹی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون جاری ،کامیاب کاروائیوں کے دوران تین ملزمان گرفتار ،1240 گرام آئس برآمد ،مقدمات درج

Next Post
تھانہ کوٹ سلطان اور تھانہ سٹی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون جاری ،کامیاب کاروائیوں کے دوران تین ملزمان گرفتار ،1240 گرام آئس برآمد ،مقدمات درج

تھانہ کوٹ سلطان اور تھانہ سٹی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون جاری ،کامیاب کاروائیوں کے دوران تین ملزمان گرفتار ،1240 گرام آئس برآمد ،مقدمات درج

Please login to join discussion

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024