لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی)مرکزی رہنما تنظیم تاجران پاکستان واحد بخش باروی نے تاجروں کے ہمراہ موجودہ معاشی صورتحال، ٹریفک جرمانوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تاجر اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے نام پر جرمانوں کی بھرمار نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں لوگوں کا گزر بسر کس قدر مشکل ہو چکا ہے، مگر سب سے پہلے ٹریفک پولیس کو اس انداز میں متحرک کیا گیا کہ قوانین کے نفاذ کے دوران شہریوں اور تاجروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک جرمانوں کی وجہ سے لوگ شہروں کا رخ کرنے سے گھبرانے لگے ہیں، جس کے باعث شہری بازار ویران ہو چکے ہیں اور تاجروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔واحد بخش باروی نے کہا کہ دیہاتوں میں کاروبار نسبتاً بہتر ہو گیا ہے جبکہ شہروں کی مارکیٹیں خالی پڑی ہیں اور تاجر سارا دن ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شہری ایک ہزار روپے کا سامان خریدنے شہر آتا ہے تو اسے اس سے پہلے جرمانے کی صورت میں ہزاروں روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص اپنی والدہ کیلئے نان چھولے لینے آیا تو اس کے پاس صرف اتنے ہی پیسے تھے، مگر اسے دو ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا، جس کے باعث وہ اپنی والدہ کیلئے ناشتہ بھی نہ لے جا سکا۔ اسی طرح کئی شہری بچوں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء لینے آتے ہیں مگر جرمانوں کے خوف سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ضلع کی معاشی صورتحال، عوام کی مالی استطاعت اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او اپنے ضلع کے سربراہ ہوتے ہیں اور انہیں عوام کے مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔واحد بخش باروی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کسان پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، جبکہ گندم، مکئی اور دیگر فصلوں میں نقصان کے باعث زرعی شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیزل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور تھریشنگ بھی نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کی بڑی تعداد پہلے ہی مارکیٹوں کے قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے اور آمدن نہ ہونے کے باعث ان کیلئے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں بے چینی بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم تاجران پاکستان کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں مرحلہ وار اجلاس جاری ہیں اور کراچی، سکھر اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی تاجر رہنماؤں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مرکزی قیادت کی جانب سے احتجاج یا شٹر ڈاؤن کی کال دی گئی تو تاجر اس میں بھرپور شرکت کریں گے اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کریں گے۔واحد بخش باروی نے مزید کہا کہ تاجروں کے مختلف گروپوں کو چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات ختم کر کے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں تاکہ تاجروں کے مسائل موثر انداز میں حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی جماعت یا تنظیم مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف آواز اٹھائے گی، تاجر برادری اس کے ساتھ کھڑی ہو گی۔انہوں نے ٹریفک پولیس کے طرز عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرمانوں کے نام پر شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عوام بلکہ اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک پولیس کے نظام میں اصلاحات کی جائیں اور جرمانوں کے طریقہ کار کو عوام دوست بنایا جائے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تاجروں اور عوام کے مسائل حل نہ کیے گئے تو تاجر برادری احتجاج، شٹر ڈاؤن اور دیگر جمہوری اقدامات سے گریز نہیں کرے گی۔
