رپورٹ: محمد کامران تِھند — لیہ
تاریخ کے کئی باب کتابوں میں محفوظ ہوتے ہیں، جبکہ کچھ داستانیں ویران عمارتوں اور کھنڈرات میں چھپی رہتی ہیں۔ لیہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور تھل کے ایک ویران علاقے میں موجود چوکی ڈلو بھی برطانوی دور کی ایسی ہی ایک بھولی بسری نشانی ہے، جس کے باقی ماندہ آثار آج بھی ماضی کی داستان سناتے ہیں۔
1849ء میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد انگریز حکومت نے انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں انتظامی مراکز اور پولیس چوکیوں کا قیام عمل میں لایا۔ اسی دور میں لیہ بھی ایک اہم انتظامی مرکز بنا۔ مقامی تاریخی روایات کے مطابق کرنل ڈیوڈ راس کو لیہ کا پہلا کمشنر مقرر کیا گیا، جو تقریباً سات برس یہاں تعینات رہے اور بعد ازاں یہیں مدفون ہوئے۔




کرنل ڈیوڈ راس کا مقبرہ لیہ شہر کے مغرب میں واقع ضلع کونسل کے مشہور کھجور باغ میں موجود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مقام بھی خستہ حالی کا شکار ہوا، تاہم بعد میں اس کی تزئین و آرائش کرکے اسے محفوظ کیا گیا۔اسی برطانوی دور کی ایک اور نشانی چوکی ڈلو ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ مقام صرف پولیس چوکی نہیں بلکہ قیدیوں کے عارضی پڑاؤ اور جیل کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ روایات کے مطابق لیہ، چوبارہ اور تھل منکیرہ کے مختلف علاقوں سے گرفتار افراد کو برطانوی فوجی اور پولیس اہلکار اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں کے ذریعے یہاں لاتے تھے۔مقامی رہائشی محمد لطیف ڈلو کے مطابق ان کے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ یہاں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ حصے موجود تھے۔ بزرگوں کی روایت کے مطابق یہ چوکی یا جیل 1849ء یا 1850ء کے لگ بھگ قائم ہوئی اور یہاں برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والے سرداروں، جاگیرداروں اور بااثر افراد کے ساتھ چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی رکھا جاتا تھا۔محمد لطیف ڈلو کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتے ہوئے برطانوی اہلکار اس مقام پر قیام کرتے اور کچھ وقت بعد دوبارہ سفر شروع کرتے تھے۔مقامی شہری محمد شہزاد کے مطابق ان کے نانا اور دادا بھی چوکی ڈلو کے حوالے سے مختلف واقعات سنایا کرتے تھے۔ ان کے مطابق بزرگوں کی روایات میں اس مقام کو تقریباً دو سو سال پرانا بتایا جاتا تھا، جبکہ بعد کے دور میں یہاں پولیس افسران کے قیام کا بھی ذکر ملتا ہے۔آج چوکی ڈلو کی عمارت وقت کی بے رحم گردش کا شکار ہوچکی ہے۔ کئی دیواریں اب بھی موجود ہیں، جبکہ دروازوں اور کھڑکیوں کے آثار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ کبھی قیدیوں، پولیس اور فوجی اہلکاروں کی آمدورفت سے آباد رہنے والا یہ مقام اب تھل کے بیابان میں خاموش کھنڈرات کی صورت اختیار کرچکا ہے۔قیام پاکستان کے بعد اس مقام کی انتظامی اہمیت ختم ہوتی گئی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ ویران ہوگیا۔ تاہم چوکی ڈلو کی تاریخ آج بھی تحقیق طلب ہے۔ اس کی تعمیر کی درست تاریخ، سرکاری حیثیت، یہاں رکھے جانے والے قیدیوں کا ریکارڈ اور برطانوی دور کے سرکاری دستاویزات تلاش کیے جائیں تو اس بھولی بسری عمارت کی اصل تاریخ مزید واضح ہوسکتی ہے۔ایک طرف لیہ کے کھجور باغ میں برطانوی دور کے پہلے کمشنر سے منسوب مقبرہ موجود ہے، تو دوسری جانب تھل کے بیابان میں چوکی ڈلو کے کھنڈرات اسی دور کی خاموش داستان سناتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس تاریخی مقام کی تحقیق، دستاویز بندی اور تحفظ کے لیے اقدامات کریں تاکہ لیہ کی یہ تاریخی نشانی ہمیشہ کے لیے ماضی کے اندھیروں میں گم نہ ہوجائے۔






