ڈیرہ غازی خان: سابق چیئرمین لیبر اینڈ ہیومن ریسورس پی ایف سی ڈیپارٹمنٹ پنجاب **سجاد حسین بلوچ** نے بلوچستان میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق مزدوروں کے ہر خاندان کو 5، 5 کروڑ روپے مالی امداد فراہم کی جائے اور ان کے بچوں کو مفت اعلیٰ تعلیم کی سہولت دی جائے۔
اپنے بیان میں سجاد حسین بلوچ نے کہا کہ کسان اور مزدور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان کی خدمات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیتوں، کانوں اور صنعتی اداروں میں سخت محنت کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے پنجاب کے محنت کشوں کی لاشیں آنا معمول بنتا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے بقول ملک میں غربت، مہنگائی اور دیگر مسائل کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جبکہ دشمن عناصر بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سجاد حسین بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور کان مالکان کو مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کا پابند بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں یہ نظام ختم ہونے سے مزدور طبقہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔






