چارسدہ : جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ Maulana Fazlur Rehman نے مطالبہ کیا ہے کہ عام انتخابات کے اصل نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں، بصورت دیگر وہ اسمبلی میں حکومت کو سکون سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔
چارسدہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی، جس کا اعتراف بھی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انتخابات شفاف نہیں تھے تو موجودہ حکومت کو کس بنیاد پر جائز تسلیم کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ برصغیر میں جب تک علماء کی قیادت موجود تھی، امن و استحکام قائم تھا، تاہم علماء سے قیادت چھینے جانے کے بعد بے امنی اور انتشار میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی لیکن جے یو آئی (ف) نے ہمیشہ اس کا راستہ روکا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنی شدید سیاسی مخالفت کے باوجود وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کافی فاصلے کم کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمہ ناگزیر ہے۔
جے یو آئی (ف) سربراہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں خطے کے وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وسائل پر قبضے کے لیے مختلف علاقوں میں بے امنی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف غریب عوام مہنگائی اور غربت کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ عیش و عشرت میں مصروف ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیاست آئین اور دلیل کے بجائے طاقت کی بنیاد پر چل رہی ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ تمام مسائل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیے جانے چاہئیں۔







