تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
بعض شخصیات اپنے ظاہری وجود سے زیادہ اپنے باطن،کردار،روّیوں اور انسانی تعلقات کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں۔یہ لوگ رسمی معنوں میں درویش نہیں ہوتے مگر ان کے اندر ایک ایسا قلندرانہ وصف موجود ہوتا ہے جو انھیں عام انسانوں سے ممتاز کر دیتا ہے۔درویشی فقط لمبے جبے،تسبیح،خانقاہ یا مخصوص ظاہری وضع قطع کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طرزِ احساس،ایک انسانی رویہ اور ایک ہمہ گیر محبت کا نام ہے۔جو انسان اپنے رب کی مخلوق سے محبت کرے،تعصبات سے بلند ہو،فطرت کے حسن کو محسوس کرے،انسانی دکھ کو اپنا دکھ سمجھے اور عاجزی کو اپنی شخصیت کا زیور بنائے،وہی حقیقی معنی میں صوفی،قلندر اور درویش کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔لیہ کی دھرتی نے بھی ایسی کئی شخصیات کو جنم دیا ہے جنھوں نے اپنی ذات سے محبت،رواداری اور انسان دوستی کی خوشبو پھیلائی۔انھی معتبر اور روشن کرداروں میں ایک تابندہ نام عزت مآب منور بلوچ کا بھی ہے۔
منور بلوچ بظاہر ایک ماڈریٹ،نفیس اور مہذب انسان دکھائی دیتے تھے مگر ان کے اندر ایک مکمل صوفی بستا تھا۔ان کے مزاج میں تحمل،رواداری،محبت،انکساری اور انسان دوستی اس انداز سے رچی بسی تھی کہ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے اخلاق اور شفقت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو انسان کو اس کے مذہب،ذات،علاقے یا سماجی حیثیت کے بجائے محض انسان ہونے کے ناتے احترام دیتے ہیں۔
منور بلوچ 1950ء میں لیہ کے معروف بلوچ قبیلے "بزدار” میں پیدا ہوئے۔ان کے قبیلے کی بنیادی نسبت تونسہ شریف سے تھی جبکہ ان کی برادری کی ایک بڑی تعداد لیہ شہر کے معروف علاقے "محلہ بزداراں” میں آباد ہے۔یہ خاندان سماجی اور سیاسی حوالے سے ہمیشہ متحرک اور بااثر رہا۔منور بلوچ کے بزرگ بھی لیہ کی سیاست اور سماجی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور بلدیہ لیہ کے اہم مناصب پر فائز بھی رہے۔اسی فعال اور باوقار خاندانی پس منظر نے منور بلوچ کی شخصیت کو بھی ایک وسیع سماجی وژن عطا کیا۔
منور بلوچ نہایت پڑھے لکھے،وسیع المطالعہ اور دانشور انسان تھے۔پیشہ ورانہ طور پر وہ بینکنگ کے شعبے سے وابستہ رہے اور اپنی قابلیت،دیانت اور انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے۔پاکستان کی بینکنگ کمیونٹی میں آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔وہ صرف ایک کامیاب بینک کار ہی نہیں تھے بلکہ ایک صاحبِ فکر انسان بھی تھے جنھیں مذہب،حالاتِ حاضرہ،سیاست،تاریخ اور سماجی علوم پر گہری دسترس حاصل تھی۔ان کی گفتگو میں علم بھی ہوتا تھا،تجزیہ بھی اور ایک دردمند انسان کا شعور بھی۔
منور بلوچ کی صحافتی اور ادبی خدمات بھی بے حد اہم ہیں۔روزنامہ خبریں ملتان سمیت مختلف قومی اور مقامی اخبارات میں ان کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے۔ان کے کالموں میں زندگی،انسان،سماج،مذہب اور فطرت کے حوالے سے ایک وسیع فکری جہت موجود ہوتی تھی۔وہ محض لکھتے نہیں تھے بلکہ اپنے قاری کو سوچنے پر مجبور بھی کرتے تھے۔ان کی تحریروں کا حلقۂ قارئین پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔ان کی ایک مذہبی تحقیق کو وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا،جو ان کی علمی سنجیدگی اور تحقیقی صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔
منور بلوچ کو دنیا دیکھنے کے متعدد مواقع ملے۔وہ کئی بیرونی ممالک گئے اور وہاں کے معاشروں،ثقافتوں اور انسانی رویوں کا گہرا مشاہدہ کیا۔یہ مشاہدات ان کی تحریروں اور فکری زاویوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔وہ جدید دنیا کے مثبت پہلوؤں کو اپنانے کے حامی تھے مگر اپنی تہذیبی شناخت اور انسانی قدروں سے کبھی دور نہیں ہوئے۔
ان کی شخصیت کا سب سے خوب صورت پہلو ان کی انسان دوستی تھی۔وہ مذہبی،لسانی اور ذات پات کے تعصبات کے سخت مخالف تھے۔ان کا مشہور قول تھا:
“محبت سب کے لیے اور نفرت کسی کے لیے بھی نہیں۔”
یہی فلسفہ ان کی پوری زندگی کو محیط تھا۔وہ کبھی کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ان کے نزدیک انسان کی عزت،اس کی آزادی اور اس کا دکھ سب سے زیادہ اہم تھے۔وہ دکھی انسانیت کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔کسی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر خود خوش ہو جانا ان کی فطرت تھی۔
اسی جذبۂ انسان دوستی کے تحت انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر “ادارہ انسان دوست” کی بنیاد رکھی۔یہ ادارہ خاموشی کے ساتھ ضرورت مندوں کی مدد کرتا تھا۔غریبوں کے علاج،تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے یہ ادارہ عملی کردار ادا کرتا رہا۔یہ محض ایک سماجی تنظیم نہیں بلکہ منور بلوچ کے انسانی وژن کی عملی تعبیر تھی۔ان کا گھر محبت،امن اور شانتی کا استعارہ تھا۔ان کی اہلیہ،ان کے تینوں بیٹے اور بہوئیں آج بھی ان کے اسی انسانی اور روادار بیانیے کی ارتقائی نشانیاں ہیں۔
منور بلوچ کی شخصیت کئی جہتوں کی حامل تھی۔وہ محقق بھی تھے،مقرر بھی،استاد بھی،منتظم بھی اور ایک کامیاب بینک کار بھی۔جس شعبے میں گئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے بعض جامعات سے بھی وابستگی اختیار کی جہاں ان کی علمی بصیرت اور تدریسی صلاحیتوں کو بے حد سراہا گیا۔
ادب کے میدان میں بھی ان کا کام نہایت اہم ہے۔وہ درجن بھر کتابوں کے مصنف تھے جن میں انسان کو بچایا جائے،زمین پر زندگی،برف میں لپٹی آگ،رفاقتوں کا سفر،شہرِ جاں کے عذاب اور امکان کے جگنو جیسی اہم کتب شامل ہیں۔ان کی تحریروں میں زندگی سے محبت،انسانی رشتوں کی حرارت،فطرت کی جمالیات اور انسان دوستی کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔
منور بلوچ ایک عمدہ نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ باکمال نظم گو شاعر بھی تھے۔ان کی شاعری میں رومانس،محبت،انسانی دکھ،فطرت اور روحانی لطافت کے عناصر نمایاں تھے۔وہ انسان،فطرت اور کائنات کے باہمی رشتے کو نہایت خوب صورتی سے محسوس کرتے تھے۔ان کے نزدیک اس زمین پر موجود ہر ذی روح،ہر دریا،ہر پہاڑ،ہر جنگل اور ہر صحرا قابلِ محبت تھا۔وہ فطرت کے عاشق تھے۔دریا،وادیاں،سمندر،پہاڑ اور صحرا ان کے دوست تھے۔ان کے اندر ایک ایسا شاعر بستا تھا جو پوری کائنات کو محبت کی آنکھ سے دیکھتا تھا۔
لیہ شہر کی سماجی،ادبی اور سیاسی محافل میں ان کی موجودگی ایک وقار اور متانت کا احساس پیدا کرتی تھی۔وہ نہایت نفیس گفتگو کرتے،اختلاف کو بھی شائستگی سے بیان کرتے اور ہر طبقے کے لوگوں سے محبت اور احترام سے پیش آتے تھے۔ان کے مزاج میں کسی قسم کی شدت پسندی یا نفرت نہیں تھی۔وہ امن،رواداری اور انسانی رشتوں کے شاعر تھے۔
2017ء میں منور بلوچ اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کی یادیں،تحریریں،فکری ورثہ اور انسان دوست رویے آج بھی اہلِ لیہ کے دلوں میں زندہ ہیں۔وہ ان شخصیات میں شامل تھے جو جسمانی طور پر دنیا سے چلی جاتی ہیں مگر اپنی فکر،محبت اور کردار کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
منور بلوچ واقعی ایک انسان دوست شاعر و ادیب تھے۔وہ ایک ایسے درویش تھے جنھوں نے محبت کو عبادت اور انسان کو سب سے بڑی حقیقت سمجھا۔ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اصل عظمت انسان سے محبت کرنے میں ہے۔ایسے لوگ معاشروں کا حسن ہوتے ہیں اور تہذیبوں کے ماتھے کا جھومر بھی۔






