تحریر : الٰہی بخش جوتہ صدر ایپکا ضلع لیہ
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے فیصلہ کن لمحے آتے ہیں جب صدیوں کی محنت بھی وہ مقام نہیں دلا سکتی جو ایک ساعت کی جرات، ایمان اور اتحاد عطا کر دیتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں قومی، عسکری، معاشی اور سیاسی قیادت کی بلند نگاہی اور فولاد جیسا عزم تاریخ کا دھارا موڑ دیتا ہے۔اسلامی تاریخ ایسے ہزاروں معرکوں سے بھری پڑی ہے جن پر انسانیت عش عش کر اٹھی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک، ہر نبی نے ملت کو بلندی عطا کی، مگر خاتم النبیین ﷺ کے پروانوں، صفہ کے چبوترے پر بیٹھ کر علم و حکمت کے موتی چننے والوں، اور بدر، احد، خندق و خیبر کے غازیوں نے جو انقلابی خاکے کھینچے، جو جنگی حکمت عملیاں مرتب کیں، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔ابوبکرؓ کا صدق، عمرؓ کا عدل، عثمانؓ کی سخاوت، علیؓ کی شجاعت، خالدؓ کی تلوار، سعد بن ابی وقاصؓ کی تیر اندازی، حمزہؓ کی للکار، معاذ و معوذؓ کی جانثاری۔ ان سب نے میدانِ جنگ میں ایسی ترتیب، ایسی پلاننگ اور ایسا ایمانی جذبہ دکھایا کہ مورخین انگلیاں دابے حیران رہ گئے کہ دو جہانوں کے نبی ﷺ کے صحابہ نے کیسا انقلاب برپا کر دیا۔یہ سرزمین مکہ و مدینہ کے بعد مقدس ترین ہے۔ اس کی مٹی کی حفاظت عین جہاد ہے۔ اس کی سرحد پر ایک رات کا پہرہ جنت کا پروانہ ہے۔ سیاچن کی برف پوش چوٹیوں پر کھڑا ہر سپاہی لشکرِ رسول ﷺ کا مجاہد ہے۔ غزوۂ ہند کا خواب آنکھوں میں سجائے، ایمان، تقویٰ اور جہاد کے نعرے پر مر مٹنے والے یہ جوان زندۂ جاوید ہیں۔1965 ہو یا 1971، یا پھر 10 مئی 2025 کا معرکۂ حق "بنیان مرصوص”۔۔۔ جب بھی دشمن نے للکارا، یہ غازی حیدرؓ کی شجاعت اور خالدؓ کی تلوار بن کر ٹوٹے۔ نعرۂ تکبیر کی صدا سے فضا گونجی اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کے سپاہیوں نے بدر و احد کی تاریخ پھر سے زندہ کر دی۔ عش عش!آج کا سپہ سالار، بحری، بری اور فضائی مجاہدین کے ساتھ صف آرا ہے۔ شہادت کی امنگ لیے، قرآن سینوں سے لگائے، زبان پر اللہ اکبر کا نعرہ سجائے یہ لشکر میدان میں اترا تو دنیا کی سپر پاورز انگشت بدنداں رہ گئیں۔ "بنیان مرصوص” کی حربی حکمتِ عملی نے دشمن کو زیر کر کے ثابت کر دیا کہ ایمان کی طاقت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔اے افواجِ پاکستان! تم نے قرآن کے معانی کو عمل سے سمجھایا۔ تمہاری قیادت، تمہارا عزم اور تمہاری قربانی نے پاکستان کو دنیا میں امامت کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ اب فیصلہ ہو چکا۔ ہماری ہاں میں ہاں ہے، ہماری ناں میں ناں ہے۔ جو ہمارے ساتھ چلنا چاہے، ہمارے قدم سے قدم ملائے۔اے وطن! تیرا پرچم تا ابد بلند رہے۔ اے غازیو، شہیدو! تمہاری بدولت آج ہر سو نعرہ گونج رہا ہے: پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان پائندہ باد، نعرۂ تکبیر اللہ اکبر






