لیہ: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر سرکاری اراضی کے تحفظ اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اہم کارروائی۔چک نمبر 244 ٹی ڈی اے میں محکمہ جنگلات کی 24 کنال 6 مرلہ اراضی کا غیر قانونی انتقال منسوخ، معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو کو ارسال کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ لیہ قومی احتساب بیورو ملتان کی ٹیم کے ساتھ مل کر مختلف جعلی اور غیر قانونی احکامات کے ذریعے سرکاری اراضی کی منتقلی اور خرد برد سے متعلق معاملات کی جانچ پڑتال اور سرکاری زمین کی واپسی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں چک نمبر 244 ٹی ڈی اے، فتح پور میں مین ایم ایم روڈ پر واقع محکمہ جنگلات کی 24 کنال 6 مرلہ قیمتی سرکاری اراضی سے متعلق ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد انتقال نمبر 1382 منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ معاملے میں ملوث افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ ریکارڈ قومی احتساب بیورو کو بھجوا دیا گیا ہے۔محکمہ جنگلات کی اراضی کی مبینہ غیر قانونی ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر لیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کروڑ اور ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات، جنگلات ڈویژن لیہ سے رپورٹس طلب کی گئیں۔ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات، جنگلات ڈویژن لیہ نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی کہ رجسٹر حقداران زمین 2019-20 اور 17 اگست 2026ء کو تیار کردہ متعلقہ فرد کے مطابق چک نمبر 244 ٹی ڈی اے میں 24 کنال جنگلات کی اراضی محکمہ جنگلات کے علم اور منظوری کے بغیر ریکارڈ سے منہا کی گئی تھی۔اسسٹنٹ کمشنر کروڑ کی جانب سے متعلقہ ریونیو افسر کی رپورٹ اور دستیاب ریکارڈ پیش کیا گیا جبکہ معاملے کی اصل فائل بھی ریکارڈ روم سے طلب کرکے مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا کہ رقبہ نمبر 84/4، چک نمبر 244 ٹی ڈی اے میں 24 کنال 6 مرلہ اراضی محکمہ جنگلات کی ملکیت اور قبضہ میں تھی، جو مین ایم ایم روڈ فتح پور پر شیلٹر بیلٹ کی صورت میں موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق ناصر علی ولد محمد الیاس، قوم راجپوت کی درخواست پر مذکورہ اراضی کو انتقال نمبر 1382 کے ذریعے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام منتقل کیا گیا جو 6 فروری 2023ء کو منظور اور تصدیق ہوا۔ یہ کارروائی اس وقت کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لیہ کے 24 جنوری 2023ء کے حکم کی تعمیل میں عمل میں لائی گئی تھی۔ مذکورہ حکم کے ذریعے مشترکہ کھاتہ نمبر 60/59 کی مجموعی 132 کنال 19 مرلہ اراضی میں شامل 24 کنال 6 مرلہ زمین کو محکمہ جنگلات سے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام منتقل کرتے ہوئے دعویدار کے دعوے کو ایڈجسٹ کیا گیا۔انکوائری کے دوران ریکارڈ کے جائزے سے متعدد اہم بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔ ریکارڈ کے مطابق ناصر علی ولد محمد الیاس کے والد محمد الیاس ولد عبدالعلیم نے مبینہ طور پر دعویٰ نمبر 4978 ایک شخص یاور علی ولد افسر خان سے حاصل کیا تھا جبکہ اس حوالے سے اصل فائل میں موجود معاہدے کی دستاویز صرف غیر رجسٹرڈ اور غیر تصدیق شدہ فوٹو کاپی کی صورت میں پائی گئی۔ مذکورہ دستاویز میں فریقین کے شناختی کارڈ نمبرز بھی درج نہیں تھے۔مزید برآں درخواست گزار کی جانب سے انتقال نمبر 465 مورخہ 21 دسمبر 2006ء کی منسوخی یا تصحیح کی درخواست دی گئی تھی، حالانکہ مذکورہ انتقال کے ذریعے 252 کنال 19 مرلہ اراضی تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے محکمہ جنگلات کے نام منتقل کی گئی تھی۔ انکوائری میں قرار دیا گیا کہ درخواست گزار کے پاس محکمہ جنگلات کی ملکیتی اراضی سے متعلق مذکورہ انتقال کی منسوخی یا نظرثانی کی درخواست کرنے کا قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ریکارڈ کے مطابق سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن کمشنر پنجاب کے 11 اپریل 1973ء کے حکم کی اصل فائل میں صرف ایک غیر تصدیق شدہ فوٹو کاپی موجود تھی جبکہ اسے متعلقہ محکمہ یا بورڈ آف ریونیو کے سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن شعبہ سے تصدیق نہیں کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مذکورہ حکم کے نفاذ میں تقریباً 50 سال کی تاخیر کا بھی کوئی واضح جواز ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔انکوائری میں یہ امر بھی سامنے آیا کہ دعویدار کے حق میں الاٹمنٹ یا ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ متعلقہ قوانین اور سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن شعبہ کی پالیسی کے تحت باقاعدہ کارروائی کے ذریعے نمٹایا جانا چاہیے تھا تاہم اسے صحت یا تصحیح ریکارڈ کے ذریعے ایڈجسٹ کیا گیا مزید یہ کہ ڈپٹی کمشنر آفس کی متعلقہ ایڈجسٹمنٹ شاخ کی کوئی رپورٹ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔انکوائری کے مطابق حکم جاری کرنے سے قبل کسی فریق کو طلب نہیں کیا گیا حتیٰ کہ محکمہ جنگلات کو بھی نہ تو کارروائی میں فریق بنایا گیا اور نہ ہی اس کا مؤقف حاصل کیا گیا حالانکہ اراضی محکمہ جنگلات کی ملکیت تھی۔ اسی طرح کارروائی کے دوران کوئی عدالتی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی عدالت کا حکم موجود تھا، بلکہ فیصلہ ریونیو عملہ کی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا جن کی صداقت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار کروڑ کی رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ انتقال نمبر 1382 مورخہ 6 فروری 2023ء، جو مشترکہ کھاتہ نمبر 60/59، رقبہ نمبر 84/4، چک نمبر 244 ٹی ڈی اے، مین ایم ایم روڈ فتح پور، تحصیل کروڑ کی 24 کنال 6 مرلہ اراضی سے متعلق ہے، کو غیر قانونی اور حقائق کے منافی ہونے کی بنیاد پر منسوخ کیا جائے۔ان سفارشات، ریکارڈ میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں اور اس حقیقت کی روشنی میں کہ محکمہ جنگلات کی اراضی کو کسی دعویدار کے حق میں ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا،ڈپٹی کمشنر لیہ نے تفصیلی حکم نامہ نمبر 3052 مورخہ 25 اگست 2026ء کے ذریعے انتقال نمبر 1382 منسوخ کر دیا۔اس فیصلے پر ریونیو ریکارڈ میں بھی انتقال نمبر 1841 مورخہ 25 اگست 2026ء کے ذریعے عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق معاملے میں ملوث افسران و اہلکاروں اور نجی مستفید ہونے والے شخص کے خلاف مزید کارروائی بھی زیر عمل ہے چونکہ قومی احتساب بیورو پہلے ہی تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی اراضی کی جعلی ایڈجسٹمنٹ اور محکمانہ اراضی کی خرد برد سے متعلق معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے، اس لیے متعلقہ ریکارڈ کی نقل، درخواست گزار ناصر علی ولد محمد الیاس، قوم راجپوت، سکنہ چک نمبر 94 ٹی ڈی اے، تحصیل کروڑ، ضلع لیہ اور ملوث افسران کے خلاف مزید قانونی کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر لیہ آصف علی ڈوگر نے کہا کہ سرکاری اراضی قومی امانت ہے اور اس کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے، ریکارڈ میں ردوبدل، جعل سازی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو سرکاری اراضی پر ناجائز حق حاصل کرنے یا سرکاری وسائل کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی کی حفاظت ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے سامنے آنے والے ہر معاملے کی مکمل چھان بین کرکے نہ صرف سرکاری زمین واگزار کرائی جائے گی بلکہ ذمہ دار افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔



