لیہ: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن ”کرپشن فری پنجاب“ کے تحت ضلع لیہ میں کرپشن کے خاتمے اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی ہدایت پر ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں میں ملوث افسران، اہلکاروں اور نجی افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل کروڑ لعل عیسن میں گرداور کاشف عمران کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ نمبر 21/26 مورخہ 28 اگست 2026 درج کر لیا گیا ہے۔ اسی مقدمہ میں مبینہ طور پر ملوث نجی شخص اور عرضی نویس ساجد رفیق کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مزید برآں پٹواری غلام مصطفیٰ کو بھی حکم نمبر 473/ACK مورخہ 29 اگست 2026 کے تحت معطل کر دیا گیا ہے۔ تحصیل لیہ میں پٹواری شکیل اختر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف پیڈا انکوائری آخری مراحل میں ہے اور انہیں ملازمت سے برخاست کرنے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ تحصیل چوبارہ میں پٹواری پرویز حسین کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جعلی ریونیو ریکارڈ کی تیاری میں ملوث نجی افراد کے خلاف بھی مقدمہ نمبر 23/26 مورخہ 2 ستمبر 2026 بجرم دفعات 420، 468 اور 471 تعزیراتِ پاکستان درج کیا گیا ہے۔ ضلعی سطح پر بھی اہم کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ چک نمبر 244/TDA میں تقریباً 25 کنال کمرشل سرکاری اراضی، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب 43 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، مبینہ طور پر نجی افراد کو فراڈ کے ذریعے منتقل کرنے کے معاملہ میں پرویز پٹواری، اسلم سکھیرا قانونگو اور محبوب ریونیو آفیسر کے خلاف ریفرنس قومی احتساب بیورو کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اسی معاملہ میں اسلم سکھیرا قانونگو کو تنزلی دے کر پٹواری بنا دیا گیا ہے۔ مزید برآں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے کلرک فرخ رسول کو مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات پر پی ٹی اے کو سرنڈر کر دیا گیا ہے جبکہ مزید ضروری کارروائی کے لیے سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کو ریفرنس بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن ”کرپشن فری پنجاب“ کے تحت سرکاری محکموں میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث کسی بھی افسر، اہلکار یا فرد کے خلاف بلاامتیاز قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



