لیہ: فتح پور میں سرکاری جنگلات کی 24 کنال 6 مرلہ اراضی کی غیر قانونی منتقلی منسوخ۔ سرکاری اراضی کے تحفظ اور ریکارڈ میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر نے اہم کارروائی کرتے ہوئے فتح پور میں جنگلات کی 24 کنال 6 مرلہ قیمتی سرکاری اراضی کی نجی فرد کے نام غیر قانونی منتقلی منسوخ کر دی۔ مذکورہ اراضی مین ایم ایم روڈ، چک نمبر 244/TDA فتح پور، تحصیل کروڑ میں واقع ہے اور محکمہ جنگلات کی ملکیت و قبضہ میں تھی۔ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ، فاریسٹ ڈویژن لیہ کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر نے معاملے کی انکوائری اسسٹنٹ کمشنر کروڑ سے کروائی۔ متعلقہ ریونیو ریکارڈ اور رپورٹ کی جانچ پڑتال میں انکشاف ہوا کہ محکمہ جنگلات کی ملکیتی اراضی کو ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے تبدیلی ملکیت/حق ملکیت کی میوٹیشن نمبر 1382 کے تحت نجی فرد کے دعوے کے ایڈجسٹمنٹ کے لیے منتقل کیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق مذکورہ میوٹیشن 6 فروری 2023 کو منظور اور تصدیق کی گئی، تاہم ریکارڈ کے جائزے میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ انکوائری میں قرار دیا گیا کہ محکمہ جنگلات کی اراضی کو کسی بھی صورت نجی دعوے کے عوض منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا جبکہ تقریباً 50 سال بعد پیش کیے گئے مبینہ دستاویزات اور ریکارڈ کی قانونی حیثیت بھی مشکوک پائی گئی۔ حکام کے مطابق معاملے میں نہ تو فریقین کو مناسب طور پر طلب کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ عدالتی کارروائی یا قانونی حکم موجود تھا، جبکہ صرف ایک فوٹو کاپی کی بنیاد پر کارروائی کیے جانے کے شواہد سامنے آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے میوٹیشن نمبر 1382 کو منسوخ قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر/کلیکٹر کروڑ کو سرکاری اراضی کا ریکارڈ درست کرنے اور ضروری اندراجات کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں، معاملے میں ملوث ریونیو اہلکار کے خلاف PEEDA ایکٹ 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ مبینہ طور پر فراڈ میں ملوث نجی شخص ناصر علی ولد محمد ایاز، قوم راجپوت، سکنہ چک نمبر 94/TDA تحصیل کروڑ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی کے ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی جعل سازی، ردوبدل یا غیر قانونی منتقلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔






