لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی)سال 2025 ضلع لیہ میں مالیاتی اسکینڈلز کے حوالے سے غیر معمولی طور پر توجہ کا مرکز بنا رہا۔ متعدد مبینہ سرمایہ کاری اسکیموں کے باعث شہری اپنی جمع پونجی سے محرومی کا شکار ہوئے جبکہ متاثرہ شہری رقم کی بازیابی کے لیے مختلف اداروں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شہریوں کے ڈوبے ہوئے سرمائے کی واپسی کے لیے قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق معروف مالیاتی اسکینڈل کے مبینہ مرکزی کردار عبدالحئی تونگر پر مختلف سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے غیرمعمولی منافع کا لالچ دے کر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے الزامات عائد ہیں۔ متاثرین کے مطابق وعدہ کیے گئے منافع کی ادائیگی نہ ہونے پر رقم کی واپسی بھی عمل میں نہ آ سکی، جس کے باعث متعدد افراد مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ معاملہ سامنے آنے پر نیب نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا، جبکہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔اسی طرح ضلع لیہ سے متعلق ایک اور بڑے مالیاتی کیس میں سابق رکنِ پنجاب اسمبلی علی اصغر خان گرمانی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ ان پر مبینہ طور پر مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹوں کی فروخت کے حوالے سے شکایات موصول ہوئیں، جن کے باعث ملتان اور ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شہروں میں متاثرین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔ متاثرہ شہری پلاٹس اور رقوم کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق 2025 کے دوران ان مالیاتی معاملات نے عوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کی ہے، جبکہ متاثرہ افراد اب بھی متعلقہ اداروں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ نیب سمیت متعلقہ محکموں کی جانب سے قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور حتمی فیصلوں کا انتظار کیا جا رہا ہے
