لیہ: سرکاری فرائض میں غفلت، مبینہ رشوت وصولی، فراڈ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سروس ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی ثابت ہونے پر پٹواری کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر لیہ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق موضع حافظ آباد، لیہ کے رہائشی عزیز احمد نے ڈپٹی کمشنر لیہ کو درخواست دی تھی کہ پٹواری محمد شکیل اختر نے جائیداد کی رجسٹری/انتقال کے سلسلہ میں ان سے 8لاکھ 34 ہزار روپے وصول کیے، تاہم رقم لینے کے باوجود مطلوبہ کام مکمل نہ کیا اور نہ ہی رقم واپس کی جس پر ڈپٹی کمشنر نے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کئے۔ انکوائری کے دوران پٹواری کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انکوائری افسر نے شواہد، ریکارڈ اور فریقین کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد ملزم پٹواری کو فراڈ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی مالی منفعت حاصل کرنے کا مرتکب قرار دیا۔ حکم نامے کے مطابق پٹواری محمد شکیل اختر کے خلاف ماضی میں بھی مختلف مقدمات/ایف آئی آرز کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ انکوائری میں عائد الزامات شواہد کی بنیاد پر ثابت ہوئے۔ ذاتی شنوائی کا موقع فراہم کیے جانے کے باوجود انکوائری افسر کی سفارشات اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں ملزم کے خلاف سنگین بدعنوانی اور سروس ڈسپلن کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔ اسسٹنٹ کمشنر لیہ نے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 (PEEDA Act) کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پٹواری محمد شکیل اختر کو میجر پنالٹی "Dismissal from Service” (ملازمت سے برطرفی) کی سزا سنادی۔ حکم نامے میں قرار دیا گیا کہ ثابت شدہ الزامات کی نوعیت اور سنگینی کے پیش نظر ملزم کا سرکاری ملازمت میں برقرار رہنا قابلِ جواز نہیں، لہٰذا اسے ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہے۔




