اسلام آباد : لیہ سے رکن قومی اسمبلی اویس نیاذ جکھڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں لیہ اور اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران ترقیاتی کاموں پر فی کس اخراجات سے متعلق سوال اٹھا دیا۔
قومی اسمبلی کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت قومی اہمیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، جبکہ شہری سہولیات اور مقامی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری صوبائی و مقامی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔
حکومتی جواب کے مطابق اسلام آباد/اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران وفاقی PSDP کے تحت اخراجات 2023-24 میں 24.387 ارب روپے، 2024-25 میں 63.583 ارب روپے اور 2025-26 میں 52.238 ارب روپے رہے۔
تاہم جواب میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران وفاقی PSDP میں لیہ میں واقع کوئی انفرادی اسکیم یا منصوبہ موجود نہیں تھا۔
اویس نیاذ جکھڑ نے اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37 اور 38 کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین ریاست کو سماجی انصاف، تعلیم کے فروغ، پسماندہ علاقوں کے مفادات کے تحفظ اور عوام کی معاشی و سماجی بہبود یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر لیہ جیسے پسماندہ ضلع میں وفاقی سطح پر گزشتہ تین سال کے دوران کوئی منصوبہ شامل ہی نہیں کیا گیا تو یہ صورتحال آئینی تقاضوں اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ لیہ کے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر عوامی ضروریات کے لیے وفاقی سطح پر بھی مؤثر ترقیاتی منصوبے شامل کیے جائیں تاکہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عدم توازن کم کیا جا سکے۔






