اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے **فکسڈ ٹیکس اسکیم** کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اہل دکانداروں سے سالانہ مجموعی کاروباری ٹرن اوور پر **ایک فیصد ٹیکس** وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسکیم میں شامل دکانداروں کے لیے کم از کم **25 ہزار روپے سالانہ کیش ٹیکس** جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکومت کو توقع ہے کہ اگر یہ اسکیم کامیاب رہی تو اس سے سالانہ **50 ارب روپے سے زائد** ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔
اسکیم **رضاکارانہ (Voluntary)** ہوگی اور دکاندار چاہیں تو فکسڈ ٹیکس اسکیم کے بجائے معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکیں گے۔ تاہم ایک سے زائد دکانوں کے مالکان، **ٹئیر ون ریٹیلرز، جیولرز** اور پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افراد اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسکیم میں رجسٹرڈ دکانداروں کو خصوصی **”گرین پلیٹ”** جاری کی جائے گی۔ گرین پلیٹ رکھنے والی دکانوں میں ٹیکس معاملات کے سلسلے میں ایف بی آر افسران داخل نہیں ہوں گے، جبکہ ایسے دکاندار **پی او ایس (POS) مشین** کی تنصیب اور معمول کے ٹیکس آڈٹ سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔
رجسٹریشن **ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس (IRIS) پورٹل، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس آفس** کے ذریعے کرائی جا سکے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک سادہ **ایک صفحے پر مشتمل ٹیکس ریٹرن فارم** بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس میں کاروبار کا نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر، کاروبار کی نوعیت، سالانہ فروخت، خریداری اور اخراجات کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔
اس کے علاوہ دکانداروں کو خالص منافع، دیگر ذرائع آمدن، ادا کیے گئے ٹیکس، غیر منقولہ جائیداد، بینک بیلنس، دستیاب نقد رقم اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اسکیم کا غلط استعمال کرتے ہوئے بھاری مالیت کے اثاثے خریدے، معلومات چھپائے یا معمولی کاروبار ظاہر کر کے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف **آڈٹ اور قانونی کارروائی** عمل میں لائی جائے گی۔
ایف بی آر نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے مسودے پر **سات روز کے اندر** تاجروں، کاروباری تنظیموں اور عوام سے اعتراضات اور تجاویز بھی طلب کر لی ہیں۔







