تحریر ۔ نثار احمد خان
ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام خصوصاً محنت کش طبقے کو تحفظ، سہولت اور باعزت زندگی فراہم کرے۔ جب ایک مزدور دن بھر کی محنت کے بعد اپنے بچوں کیلئے محفوظ مستقبل اور اپنی چھت کا خواب دیکھتا ہے تو اس خواب کی تعبیر صرف ذاتی خوشی نہیں بلکہ ایک فلاحی نظام کی کامیابی بھی ہوتی ہے۔ اپنے گھر کا حصول ہر انسان کی بنیادی خواہش ہوتی ہے کیونکہ گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ سکون، عزت اور تحفظ کا احساس بھی ہوتا ہے۔
جب سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی ہے، وہ مسلسل عوامی فلاح، شہری سہولیات اور کمزور طبقات کی بہتری کیلئے متحرک دکھائی دیتی ہیں۔ پنجاب میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے “ستھرا پنجاب” پروگرام ہو، عوام کو علاج کی سہولت دینے کیلئے صحت کے منصوبے ہوں، خواتین، طلبہ اور کسانوں کیلئے مختلف فلاحی اقدامات ہوں یا محنت کش طبقے کیلئے راشن کارڈ جیسی سہولت، ہر منصوبے میں عام آدمی کی آسانی کو ترجیح دی گئی۔ خصوصاً محنت کشوں کیلئے 40 ارب روپے کی لاگت سے راشن کارڈ پروگرام کے ذریعے ماہانہ مالی معاونت کا اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے۔
اسی تسلسل میں پنجاب حکومت نے محنت کش طبقے کیلئے ایک ایسا تاریخی اقدام کیا جسے بلاشبہ پاکستان کی فلاحی تاریخ میں سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ 720 محنت کش خاندانوں کو بلا معاوضہ فلیٹس فراہم کرکے انہیں اپنے گھر کا مالک بنا دیا۔ یہ صرف چابیاں تقسیم کرنے کی تقریب نہیں تھی بلکہ ان محنت کش ہاتھوں کی عزت افزائی تھی جو برسوں سے دوسروں کے گھر تعمیر کرتے رہے مگر خود اپنی چھت سے محروم تھے۔ ان فلیٹس میں بیوہ خواتین، خصوصی افراد اور کم آمدنی والے مزدوروں کو خصوصی ترجیح دی گئی۔ دو بیڈ رومز، لاؤنج اور دیگر بنیادی سہولیات پر مشتمل یہ رہائشی منصوبہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست کمزور طبقے کو صرف وعدے نہیں بلکہ باعزت زندگی فراہم کرے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے نہ صرف 720 خاندانوں کو گھر فراہم کیے بلکہ آئندہ تین برسوں میں پانچ ہزار سے زائد محنت کشوں کو گھر دینے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے ساتھ تین مرلہ پلاٹس اور آسان قرضوں کی فراہمی کا عندیہ بھی دیا گیا تاکہ غریب اور مزدور طبقہ مستقل بنیادوں پر اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔ ایک فلیٹ پر تقریباً 35 لاکھ روپے خرچ ہونے کے باوجود محنت کشوں سے ایک روپیہ تک وصول نہ کرنا اس منصوبے کی اصل روح ہے۔ ایسے وقت میں جب متوسط طبقہ بھی کرایوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے، حکومت کی جانب سے مفت گھر فراہم کرنا یقیناً ایک غیر معمولی قدم ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ محنت کش کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ کارخانے، سڑکیں، عمارتیں اور ترقیاتی منصوبے انہی مزدور ہاتھوں کی محنت سے مکمل ہوتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ عدم تحفظ، غربت اور بے گھری کا شکار رہے تو ترقی کا خواب کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلاحی ریاستیں سب سے پہلے محنت کش کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہیں۔ پنجاب حکومت کا یہ اقدام بھی اسی سوچ کی ایک جھلک محسوس ہوتا ہے جہاں مزدور کو صرف لیبر نہیں بلکہ ایک باعزت شہری سمجھا جا رہا ہے۔
یقیناً ایک غریب مزدور کیلئے اپنے گھر کی چابی حاصل کرنا زندگی کے سب سے بڑے خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ وہ خاندان جو برسوں کرائے کے مکانوں میں دربدر رہے، آج اپنی چھت کے نیچے سکون کی سانس لے سکیں گے۔ ایسی دعائیں، ایسی خوشیاں اور ایسے آنسو شاید کسی بھی حکومت کیلئے سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ عوامی خدمت صرف تقاریر سے نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات سے پہچانی جاتی ہے جو براہِ راست عام آدمی کی زندگی بدل دیں۔
اگر یہی جذبہ، یہی تسلسل اور یہی عوامی سوچ برقرار رہی تو پنجاب میں فلاحی طرزِ حکمرانی کی ایک نئی مثال قائم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی حکمرانوں کو یاد رکھتی ہے جو اقتدار کو اختیار نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں، اور وہ حکومتیں عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہیں جو محنت کش کے پسینے کی قدر اور اس کے خوابوں کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔
****




