لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی)صوبائی محتسب پنجاب کے علاقائی دفتر لیہ نے دورانِ حراست قیدیوں کے نام پر غیر قانونی طور پر سمز کے اجرا کے معاملے پر انکوائری رپورٹ جمع نہ کرانے پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو دوسرا نوٹس جاری کر دیا ہے۔صوبائی محتسب پنجاب لیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق شکایت کنندہ عامر بلال خان دستی ایڈووکیٹ کی درخواست پر 17 نومبر 2025 کو احکامات جاری کیے گئے تھے، جن میں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو 45 یوم کے اندر اندر کارروائی سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود رپورٹ جمع نہ کروائی جا سکی۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں رپورٹ جمع نہ کرانے پر پہلے ریمانڈر کے باوجود ادارے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس پر اب دوسرا ریمانڈر جاری کیا گیا ہے۔ صوبائی محتسب پنجاب لیہ کا مؤقف ہے کہ جیل میں زیرِ حراست قیدیوں کے نام پر سمز کا اجرا اور اس حوالے سے جواب جمع نہ کروانا سنگین مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔شکایت کنندہ عامر بلال خان دستی ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ نیو سنٹرل جیل ملتان ارشد وڑائچ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نیو سنٹرل جیل ملتان عارف حبیب اور انچارج بارک جند وڈا کی مبینہ ملی بھگت سے فنگر پرنٹس اور انگوٹھوں کے نشانات لے کر غیر قانونی طور پر سمز جاری کی گئیں۔عامر بلال خان دستی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک سنگین مس کنڈکٹ بھی ہے، جس پر ملوث افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کے ذریعے قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی جانب سے انکوائری رپورٹ جمع نہ کروانا اور معاملے پر خاموشی اختیار کرنا ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے اور یہ طرزِ عمل صوبائی محتسب پنجاب لیہ کے اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ نوٹس کے مطابق 82 روز گزرنے کے باوجود جواب جمع نہ کروانا عدم تعمیل کے زمرے میں آتا ہے، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
