layyah
بدھ, جنوری 28, 2026
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل
layyah
No Result
View All Result

لیہ میں علم و ادب کے فروغ میں “سرائی” خاندان کی خدمات

عبدالرحمن فریدی by عبدالرحمن فریدی
جنوری 23, 2026
in کالم
0

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین

وادیٔ سندھ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں صدیوں سے علم و ادب کی روایت شخصی، خاندانی اور قبائلی سطح پر پروان چڑھتی رہی ہے۔ اس خطے میں نہ صرف مدرسے اور درس گاہیں قائم رہیں بلکہ نجی کتب خانے، ڈیرے اور علمی بیٹھکیں بھی فکری زندگی کا مرکز بنتی رہیں۔ شعر و ادب، تاریخ، فلسفہ اور تہذیب سے وابستہ اہلِ دانش ان مقامات پر جمع ہو کر مکالمہ کرتے، تخلیق کرتے اور روایت کو نسل در نسل منتقل کرتے رہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ روایت آج بھی پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔

لیہ کے علمی و ادبی منظرنامے میں جن خاندانوں نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں “سرائی خاندان” ایک درخشاں نام ہے۔ بنیادی طور پر یہ خاندان زنگیزہ بلوچ ہے مگر علم و ادب سے نسبت نے اسے ایک منفرد شناخت عطا کی۔ اس خاندان نے نہ صرف اپنے ذوق اور شوق سے علم کو اپنایا بلکہ اسے اجتماعی سطح پر فروغ دینے کی عملی کوششیں بھی کیں۔ سرائی خاندان کی پہچان محض نسب سے نہیں بلکہ فکر، شعور اور تہذیبی خدمت سے بنی ہے۔

اس خانوادے میں علم و ادب کے فروغ کا سب سے روشن حوالہ میاں الٰہی بخش سرائی ہیں۔ “میاں” ان کا تعارفی اور اعزازی لقب تھا جو ان کے علمی وقار اور سماجی مرتبے کی علامت ہے۔ میاں الٰہی بخش کو قلم، کتاب اور اہلِ دانش سے فطری لگاؤ تھا۔ تاریخ، آثارِ قدیمہ، زبان و ادب اور تہذیبی شعور سے ان کی محبت محض شوق نہیں بلکہ ایک گہری فکری وابستگی تھی۔ سرائیکی زبان کے نام اور شناخت کے حوالے سے بھی تاریخ میں ان کا ذکر موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ روایت کے صرف امین ہی نہیں بلکہ اس کے معمار بھی تھے۔

میاں الٰہی بخش سرائی کے ذاتی کتب خانے میں ہزارہا کتب، مخطوطات، غیر مطبوعہ مقالات، قدیم تصاویر، رسائل و جرائد، مورتیاں اور سکے محفوظ ہیں۔ یہ ذخیرہ محض ذاتی ورثہ نہیں بلکہ پورے خطے کی تہذیبی اور علمی تاریخ کا سرمایہ ہے۔ افسوس یہ ھے کہ اس عظیم ورثے کو ریاستی سرپرستی اور باقاعدہ ادارہ جاتی توجہ نہیں ملی، اس لیے اندیشہ ھے کہ وقت کی بے رحمی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔ ایسے علمی خزانوں کو محفوظ رکھنا دراصل اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنا ہے۔

سرائی خاندان کا ڈیرہ محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری مرکز رہا ہے۔ یہاں اہلِ قلم، شاعر، محقق اور دانشور جمع ہو کر مکالمہ کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں ڈاکٹر خیال امروہوی، عثمان خان، نسیم لیہ، ارمان عثمانی، برکت اعوان اور نواز صدیقی جیسے نامور اہلِ علم اس ڈیرے پر آ کر علم و ادب کی روایت کو توانا کرتے رہے۔ ان محفلوں میں فکر کی روشنی بٹتی رہی اور نئے اذہان کو جِلا ملتی رہی۔

آج کے دور میں بھی یہ ڈیرہ علم و ادب کی روشنی سے منور ہے۔ ڈاکٹر گل عباس اعوان، ڈاکٹر حمید الفت ملغانی،شاہد تنویر محمد زئی، پروفیسر اختر وہاب، ڈاکٹر طاہر مہار، حنیف خیالی، صابر عطا،صابر جاذب احتشام مہار، نعیم افغانی ،حسرت خان اور منظور بھٹہ جیسے اہلِ قلم باقاعدگی سے یہاں تشریف لا کر اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ سرائی خاندان نے علم کو ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا سرمایہ بنایا ہے۔

اس علمی ورثے کے اصل محافظ آج میاں شمشاد حسین سرائی اور میاں امداد حسین ہیں۔ انہوں نے اعلی ذوق، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ اس کتب خانے اور ڈیرے کو آباد رکھا ہوا ہے۔ ان کی کاوشیں اس بات کی ضامن ہیں کہ میاں الٰہی بخش سرائی کی روشن کی ہوئی شمع آج بھی فروزاں ہے اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہو رہی ہے۔

سرائی خاندان نے لیہ میں علم و ادب کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ محض خاندانی روایت نہیں بلکہ پورے خطے کا علمی سرمایہ ہیں۔ یہ خاندان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب فرد اور خاندان علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں تو تہذیبیں بنتی ہیں، زبانیں زندہ رہتی ہیں اور معاشرے فکری طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ورثے کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ ریاستی اور سماجی سطح پر محفوظ بھی کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس روشن روایت سے فیض یاب ہو سکیں۔

Tags: CMPUNJABeducation newsinter national newsislamabad newslahore newslayyah newslayyah tvnational urdu newspakistan news
Previous Post

لیہ میں کروڑوں کی کارپٹ گھاس، شدید گرمی میں ناکامی یقینی؟ قومی خزانے کے ضیاع پر سنگین سوالات،ہائی ٹمپریچر ضلع میں موسمی مطابقت کے بغیر نایاب پودوں اور گھاس کی تنصیب، شہری حلقوں کا گزشتہ پانچ برسوں کے اخراجات منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

Next Post

ممکنہ آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے لیہ میں 25 واٹر ہائیڈرنٹس اور 9 اوور ہیڈ فلنگ پوائنٹس لگانے کا فیصلہ، ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ اجلاس، فائر سیفٹی آلات اور بلڈنگ بائی لاز پر 15 روز میں عملدرآمد کا حکم

Next Post
ممکنہ آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے لیہ میں 25 واٹر ہائیڈرنٹس اور 9 اوور ہیڈ فلنگ پوائنٹس لگانے کا فیصلہ، ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ اجلاس، فائر سیفٹی آلات اور بلڈنگ بائی لاز پر 15 روز میں عملدرآمد کا حکم

ممکنہ آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے لیہ میں 25 واٹر ہائیڈرنٹس اور 9 اوور ہیڈ فلنگ پوائنٹس لگانے کا فیصلہ، ڈپٹی کمشنر آصف علی ڈوگر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ اجلاس، فائر سیفٹی آلات اور بلڈنگ بائی لاز پر 15 روز میں عملدرآمد کا حکم

Please login to join discussion

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • لیہ
    • ادب
    • ثقافت
    • سیاست
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • سائنس
  • کاروبار
  • فنون لطیفہ
  • صحت
  • وڈیوز
  • کالم
  • انٹرویو
  • زراعت
  • ستاروں کے احوال
  • شوبز
  • کھیل

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024