لیہ (نمائندہ لیہ ٹی وی)ضلع لیہ جو ماضی سے ہی صوبہ پنجاب کے ہائی ٹمپریچر اضلاع میں شمار ہوتا ہے، وہاں شدید گرم اور مرطوب موسم میں کروڑوں روپے کی لاگت سے لگائی گئی کارپٹ گھاس اور نایاب درختوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی خوبصورتی کے نام پر قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ زمینی حقائق اور موسمی تقاضوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لیہ چوک اعظم روڈ پر ڈیوائیڈر کے درمیان خوبصورتی اور ماحول کو دیدہ زیب بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے نرم کارپٹ گھاس اور نایاب درخت لگائے گئے ہیں، جن پر رواں مالی سال کے دوران ہی تقریباً دو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ماہرینِ ماحولیات اور شہریوں کا کہنا ہے کہ لیہ جیسے شدید گرمی والے علاقے میں اس نوعیت کی گھاس اور پودے نہ تو دیرپا ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی سخت موسمی حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔شہریوں نے نشاندہی کی ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اسی طرز کے منصوبے شروع کیے گئے، مگر ہر بار موسمی شدت کے باعث کارپٹ گھاس اور درخت چند ہی مہینوں میں ضائع ہو گئے، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے باوجود نہ تو ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی ضلع کی سیزنل کنڈیشن کو مدنظر رکھا گیا۔عوامی اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ محکمہ ماحولیات، جنگلات، زراعت اور دیگر متعلقہ اداروں نے منصوبہ بندی کے دوران مقامی موسمی حالات، درجہ حرارت اور پانی کی دستیابی کو کیوں نظرانداز کیا؟ شہریوں کے مطابق اگر واقعی مقصد ماحولیاتی بہتری اور خوبصورتی ہے تو ایسے پودے، درخت اور گھاس لگائی جانی چاہیے جو لیہ کی شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور کم پانی میں بھی نشوونما پا سکیں۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیہ چوک اعظم روڈ پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران درختوں اور گھاس کی تنصیب پر خرچ ہونے والی مکمل رقم کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے منصوبوں میں مقامی ماہرینِ ماحولیات کی رائے کو لازمی قرار دیا جائے، تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو ماحولیاتی خوبصورتی کے نام پر شروع کیے گئے یہ منصوبے محض نمائشی ثابت ہوں گے اور ’’مال مفت، دل بے رحم‘‘ کی عملی تصویر بن کر رہ جائیں گے۔