لیہ ( نمائندہ لیہ ٹی وی )محکمہ زراعت کے زیر اہتمام چک نمبر 126 ٹی ڈی اے میں ملک لعل محمد تھند کے ڈیرے پر کاشتکاروں کا آگاہی تربیتی پروگرام منعقد ہوا ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع لیہ محمد طلحہ شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہا کہ حکومت پنجاب مشینی کاشت کو فروغ دینے اور زرعی ترقی کے لیے کاشتکاروں کو گرین ٹریکٹرز کی مد میں فی ٹریکٹر پانچ لاکھ روپے سبسڈی فراہم کرے گی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ پنجاب میں گرین ٹریکٹرز اسکیم فیز سوم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کی فراہمی کے ذریعے پیداواری لاگت میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے اس اسکیم کے تحت درخواست دہندہ کا صوبہ پنجاب کا رہائشی ہونا اور اس کے پاس کم از کم پانچ ایکڑ یا اس سے زائد زرعی زمین کی تصدیق شدہ ملکیت ہونا لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کاشتکار جو پہلے گرین ٹریکٹر اسکیم فیز اول، فیز دوم (ہائی پاور) یا گندم ترغیبی پروگرام کے تحت سبسڈی شدہ ٹریکٹر حاصل کر چکے ہیں اس اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے اسی طرح کسان کارڈ کے نادہندہ افراد بھی اس اسکیم میں درخواست دینے کے مجاز نہیں ہوں گے مقررہ مدت سے قبل ٹریکٹر فروخت کرنا قابلِ سزا جرم تصور کیا جائے گا۔ قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والے کامیاب کاشتکاروں کو پانچ لاکھ روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ کاشتکار 50 سے 65 ہارس پاور کے درمیان ٹریکٹر کا ماڈل منتخب کر سکیں گے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت نے گندم کی فصل کے حوالے سے کاشتکاروں کو رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کاشتکار پہلے پانی کے ساتھ فی ایکڑ ایک بوری یوریا استعمال نہ کر سکے ہوں تو وہ دوسرے پانی کے ساتھ یوریا ضرور ڈالیں۔ انہوں نے بتایا کہ گندم کی فصل میں آبپاشی کا دوسرا نازک مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب فصل گوبھ یا سٹے نکالنے کے قریب ہوتی ہے، جو عموماً کاشت کے 80 سے 90 دن بعد آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر اگر پانی کی کمی ہو جائے تو زرپاشی کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سٹوں میں دانوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور پیداوار میں 12 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے بہتر پیداوار کے حصول کے لیے گوبھ کی حالت میں فصل کو بروقت پانی لگانا انتہائی ضروری ہے۔

