لیہ(نمائندہ لیہ ٹی وی)ضلع لیہ کے مرکزی عوامی تفریحی مقام فضل پارک میں سرکاری اراضی پر تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور قواعد کے خلاف نقشہ منظوری کے معاملے میں قابضین اور ان سے مبینہ ملی بھگت کرنے والے سرکاری افسران کے نام انکوائری رپورٹ میں سامنے آ گئے ہیں۔ یہ رپورٹ ڈپٹی کمشنر لیہ کی ہدایت پر تیار کی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق فضل پارک کی حدود میں سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے افرادمیونسپل کمیٹی کا ملازم عمرگل اس کی بہن نظام بی بی و دیگر شہریوں اور کمرشل مفادات سے وابستہ عناصر شامل ہیں، جنہوں نے پارک کے لیے مختص رقبے پر تعمیرات کیں۔ رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ تجاوزات بغیر قانونی اجازت کے کی گئیں، تاہم متعلقہ اداروں کی خاموشی اور سہولت کاری کے باعث یہ تعمیرات جاری رہیں۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پارک کے اندر اور اطراف میں کی جانے والی تعمیرات کے نقشے قواعد و ضوابط کے برعکس منظور کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل میں میونسپل کمیٹی اور متعلقہ تکنیکی عملے کے بعض افسران نے ملی بھگت سے نقشہ جات کی منظوری دی،سابق سب انجینئرٹی ایم اے محمد عارف کے مطابق عمر گل اور اس کی بہن ناظم بی بی کے مکان کا نقشہ غلط طور پر اس لئے پاس کی گیا کہ وہ ایم سی /ٹی ایم اے کا ملازم ہے، حالانکہ یہ تعمیرات پارک کے ماسٹر پلان، عدالتی احکامات اور سرکاری پالیسی کے سراسر خلاف تھیں۔انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقشہ منظوری کے وقت نہ تو پارک کی اصل حیثیت کو مدنظر رکھا گیا اور نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں ایسے افسران کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے نقشہ جات پر دستخط کیے یا تجاوزات کے باوجود کارروائی سے گریز کیا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ فضل پارک سے تمام تجاوزات کا فوری خاتمہ کیا جائے، غیر قانونی تعمیرات مسمار کی جائیں اور سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی نقشہ منظور کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی بھی واضح سفارش کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داران سے جواب طلب کر لیا ہے، تاہم شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بار قابضین اور سہولت کار افسران کے خلاف عملی کارروائی نہ کی گئی تو یہ انکوائری بھی محض کاغذی کارروائی ثابت ہو گی۔