تحریر۔محمد یوسف لغاری

حکومتِ پنجاب حالیہ برسوں میں خواتین خصوصاً بچیوں اور طالبات کی تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہوئے اس شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ سوچ واضح طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ اگر صوبے کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھانا ہے تو اس کی شروعات بچیوں کی تعلیم، خواتین کے بااختیار کردار اور طالبات کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی سے کرنا ہوگی۔ تعلیمی وظائف، طالبات کی حوصلہ افزائی، سہولتوں کی فراہمی اور خواتین کو خودمختار بنانے کے اقدامات اسی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی پس منظر میں جب چوبارہ روڈ پر نصب پینا فلیکس پر نظر پڑتی ہے، جس پر سرائیکی زبان میں درج ہے “دھی پڑھسی۔۔ نسل ترسی ” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ جملہ صرف ایک سڑک کنارے نصب بورڈ نہیں بلکہ ریاستی سوچ، سماجی شعور اور قومی امنگوں کا عملی اظہار ہو۔ یہ مختصر سا فقرہ اپنے اندر نسلوں کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور خاموشی سے ہر گزرنے والے سے مکالمہ کرتا ہے کہ ترقی کا راستہ بیٹی کی تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔
بیٹی اگر پڑھی لکھی ہو تو وہ صرف اپنے لیے نہیں جیتی، وہ پورے گھر، پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا چراغ بن جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی ماں بن کر شعور کو جنم دیتی ہے، تربیت کو سمت دیتی ہے اور اخلاق کو وراثت بنا دیتی ہے۔ وہ نسل کو صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور تہذیبی طور پر مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے، جن معاشروں نے عورت اور بیٹی کی تعلیم کو سنجیدگی سے اپنایا، وہی معاشرے حقیقی ترقی کی منازل طے کر سکے۔
اسلام نے بھی بیٹی کو رحمت قرار دیا اور اس کی تعلیم و تربیت کو والدین کی ذمہ داری بنایا۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص نے بیٹیوں کی بہترین پرورش کی، انہیں تعلیم دی اور اچھا انسان بنایا، وہ جنت میں آپ ﷺ کے قریب ہوگا۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں بیٹی باعثِ زحمت نہیں بلکہ باعثِ عزت ہے، اور اس کی تعلیم محض دنیاوی فائدہ نہیں بلکہ اخروی کامیابی کا وسیلہ بھی ہے۔ علم کا حصول مرد و عورت دونوں پر فرض قرار دیا گیا، کیونکہ باشعور ماں ہی باشعور قوم کی بنیاد رکھتی ہے۔
آج ہمارے شہروں میں اشتہارات کی بھرمار ہے۔ کہیں تجارتی مفادات کا شور ہے، کہیں نمود و نمائش کا غلبہ، مگر سماجی اقدار، اخلاقی پیغام اور فکری اصلاح کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں یہ پینا فلیکس امید کی ایک کرن ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ اشتہار صرف اشیا فروخت کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچ بدلنے اور سماج سنوارنے کا مؤثر وسیلہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا مثبت پیغام ہے جو خاموشی سے اپنا اثر چھوڑتا ہے اور ذہنوں میں سوالات پیدا کرتا ہے۔
بیٹی کی تعلیم دراصل مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ یہ وہ بیج ہے جو آج بویا جائے تو کل ایک مہذب، باشعور اور مضبوط نسل کی صورت میں پھل دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اور اگر وہ درسگاہ علم سے آراستہ ہو تو پوری قوم سنور جاتی ہے۔ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کو آگے بڑھاتی ہے، مگر ایک عورت کی تعلیم پوری نسل کو سمت عطا کرتی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب خصوصاً طالبات اور خواتین کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ تعلیمی مواقع میں اضافہ، طالبات کے لیے حوصلہ افزائی کے پروگرام، وظائف اور سہولتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ تعلیم یافتہ لڑکی ہی مضبوط خاندان اور مستحکم معاشرے کی ضامن ہے۔ ایسے میں چوبارہ روڈ پر نصب یہ پینا فلیکس سرکاری پالیسی اور عوامی شعور کے درمیان ایک خوبصورت پل بن جاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پینا فلیکس محض ایک بورڈ نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک پیغام اور ایک اجتماعی عہد ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو بیٹی کی تعلیم کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بنانا ہوگا، کیونکہ جب بیٹی پڑھے گی تو صرف ایک گھر نہیں، ایک خاندان نہیں بلکہ پوری نسل ترقی کرے گی، اور یہی کسی بھی قوم کی اصل کامیابی ہے۔

