ایم آر ملک
شخصیات کے وژن کو بیان کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے،صدیق طاہر سے برسوں کا تعلق ہے، وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے معاشرتی ناہمواریوں پرنہ صرف لکھا بلکہ اس کے خلاف ایک موثر آواز بنے میرے نزدیک انقلابی شخصیت وہ ہوتی ہے جو روایتی نظام،ناانصافی اورجمود کے خلاف کھڑی ہو کر معاشرے،سیاست یا سوچ میں بنیادی تبدیلیوں کا موجب بنے۔
برسوں کی شناسائی کے رشتے انمول ہوتے ہیں صدیق طاہر نے اپنی تحریر کے ذریعہ سماج کو اس کی تلخ سچائیوں کے روبرو کروایا اور عہد حاضر کی پیچیدہ زندگی کے سنگین مسائل کو بےنقاب کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریرمیں عصر حاضر کی زندگی کی بھرپور جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آج کی انسانی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ رشتوں کی معنویت ختم ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے عام انسانی زند گی بے سہارا و بے بس نظرآتی ہے۔ غیرانسانی رویوں کی وجہ سے آبادیوں میں زندگی آباد ہو نے کے بجائے، برباد ہوتی جارہی ہے۔ ہر جگہ اصل اور مستحق لوگوں کا استحصال ہورہا ہے اورنقلی لو گ ہیرو بنتے جارہے ہیں۔ انسانی معاشرے میں بربریت و بہیمیت عام ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انسانی آبادی میں درندے آکر بس گئے ہیں،
ہمارے معاشرے میں اب سچائی کی کوئی قدرنہیں ہے جہاں دیکھئے جھوٹ کا بول بالا ہے۔ جھوٹ نے بڑی تیزی سے نہ صرف ترقی کی ہے بلکہ یہ اتناطاقتور ہوگیا ہے کہ ہر آدمی اس کا قدم چومنے پر مجبور ہے اور سچائی کی سزا اتنی بھیانک ہے کہ اب آدمی کو سچ بولنےسے ڈر لگنے لگا ہے، صدیق طاہر نےاپنے طنزیہ انداز میں ان تمام پہلوؤں پر چوٹ کی،آج چاروں طرف بظاہر بہت چمک دمک نظر آتی ہے مگر بباطن ہمارے سماج میں ظلمت و تاریکی کا دور دورہ ہے۔ سماجی کجروی کا یہ عالم ہے کہ بیمار، معالج بن گئے ہیں۔ بدعنوانی کی دھوپ کی تپش اس قدر شدید ہے کہ سماج کے اچھے بھلےخیرخواہ لوگ اس میں جھلس رہے ہیں اور اس سے پناہ مانگتےنظر آرہے ہیں۔
کئی روز پہلے انکے ہاں جانا ہوا ان کی لائبریری میں ان کی کتابیں کشش کا سبب ہیں،ان کی تحریر یوں منفرد لگی کہ قاری کے ساتھ ایک مکالمے کی شکل میں نظر آتی ہے،ا ن کی تحریر خوابوں کی تعبیر اور مستقبل لگتی ہے،انہوں نے محدث دہلوی شاہ ولی اللہؒ کا مطالعہ کیا اور ان کی انقلابی تعلیمات کو آج بھی ملک کے اطراف و اکناف میں پھیلانے کا موجب ہیں،میں نے ان کو پڑھا اور میں سمجھتا ہوں کہ عام انسانوں کے جذبات و احساسات اور عوامی اقدار و روایات کی موثر عکاسی کرنے والے ہمارے دوست کی تحریرانسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن اور عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمان ہے جو ہمیں سماجی مسائل کا ادراک سکھاتی ہے
بہت کم ہوتا ہے کہ کسی کی تحریر کا خمیر عام انسانی زندگی سے تیار ہو،صدیق طاہر میں یہ خوبی ہے کہ سماج کے ان سلگتے چیختے مسائل کو جگہ دی جس کا اظہار عوام براہ راست نہیں کرپارہے،یہی نہیں عام انسانی دکھوں، پیچیدگیوں اور جذبات و احساسات کو اتنی نزاکت سے بیان کیا کہ ہر آدمی کو ان کی تحریرمیں اپنے دل کی بات نظر آتی ہے،
انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن اور عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی آساں نہیں ہوتی جو ہمیں سماجی مسائل کا ادراک سکھاتی،سماج کو اس کی تلخ سچائیوں کے روبرو کھڑا کرنااور عہد حاضر کی پیچیدہ ز ندگی کے سنگین مسائل کو بےنقاب کرنا جری افراد کا کام ہوتا ہے،
جب زندگی میں محبتوں و مروتوں کا فقدان ہو، انسان کے اندر کا انسان مررہا ہو اور انسانی آبادی میں ایک سناٹے اور ہو کا عالم ہو، زندگی مختلف مسائل میں گھری ہونے کی وجہ سے اس قدر معمہ اور پیچیدہ ہوگئی ہو کہ کسی گونگےکا خواب معلوم ہوتی ہو۔ عام انسانوں کا مقدر خراب ہو اور بہت ہی شاطرانہ انداز میں ظالم تخریبی طاقتوں کی بد نگاہیں ہمارے تعاقب میں ہوں،وہاں کوئی آواز تو ایسی ہو جو آپ کو جھنجوڑ کر بیدار کرے،بے باک اور طنزیہ لہجوں میں ان پہلوؤں کی مصوری کرنا شاہ ولی اللہ ؒکے پیروکاروں کا ہی خاصہ ہوسکتا ہے





