تحریر: ثاقب عبداللہ نظامی
گلہائے رنگ رنگ تحقیقی مضامین کا ایک متنوع اور فکر انگیز مجموعہ ہے۔ اس شاہکار کے مصنف رانا محمد شاہد صاحب میرے والدِ محترم کے دیرینہ دوست ہیں، اور اس کتاب میں میرے والد محترم کے تاثرات کا شامل ہونا اس مجموعے کی اہمیت کو میرے لیے مزید بڑھا دیتا ہے۔۔۔۔۔یہ کتاب مجھے رانا محمد شاہد صاحب نے تقریباً ایک ماہ قبل ارسال کی تھی، تاہم یونیورسٹی کے امتحانات کے باعث فوری طور پر اس کا مطالعہ ممکن نہ ہو سکا۔ اب جب میں گھر آیا تو توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اس کتاب کو پڑھنے کا موقع ملا، اور یہ کہنا بجا ہے کہ یہ مطالعہ محض رسمی نہیں بلکہ فکری طور پر نہایت مفید اور معلومات افزا ثابت ہوا۔کتاب کی فہرستِ مضامین ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ گلہائے رنگ رنگ محض ایک موضوع تک محدود نہیں۔ دینی، قومی، تاریخی، ادبی، لسانی اور سائنسی موضوعات پر مشتمل یہ مضامین قاری کو فکری وسعت عطا کرتے ہیں۔۔۔ نبی کریم ﷺ کی خوش طبعی جیسے مضمون میں سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک نرم اور انسانی پہلو سامنے آتا ہے، جبکہ یوم تکبیر اور ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر جیسے مضامین عصری اور قومی شعور کو اجاگر کرتے ہیں۔اردو ادب سے متعلق مضامین خصوصاً “اردو جسے کہتے ہیں زبان ہے میری” اور “اردو کا گورا محسن ڈاکٹر جان گلکرسٹ” رانا شاہد کی لسانی وابستگی اور تہذیبی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی طرح جنگِ ستمبر کی کہانی، ٹیپو سلطان اور یومِ تکبیر جیسے موضوعات قومی تاریخ کو تحقیقی انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے نوجوان نسل میں آگاہی اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔کتاب کی زبان شستہ، رواں اور بوجھل پن سے پاک ہے۔ تحقیقی مضامین ہونے کے باوجود اسلوب میں ایسی سادگی پائی جاتی ہے جو عام قاری کو بھی مطالعے سے جوڑے رکھتی ہے۔ حوالہ جات کا استعمال، موضوع پر گرفت اور متوازن تجزیہ رانا محمد شاہد کی سنجیدہ مضمون نگاری کا ثبوت ہیں۔مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو گلہائے رنگ رنگ ایک ایسی کتاب ہے جو علمی و تحقیقی اعتبار سے نہایت اہم ہے، اور اردو مضمون نگاری میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب طلبہ، اساتذہ، محققین اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یقیناً مفید ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔!

