لیہ(نمائندہ لیہ ٹی وی) اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت محمد طلحہ نے کہا ہے کہ جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار میں چودہ سے لے کر بیالیس فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات چک نمبر 125 ٹی ڈی اے میں منعقدہ فارمرز ٹریننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار میں زمین کی تیاری، اچھے بیج وقسم کا انتخاب، متوازن کھاد اور بروقت کاشت کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تلفی اہم ھے۔ جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کے بغیر گندم کی فی ایکٹر زیادہ پیداوار کا حصول ناممکن ہے۔ جڑی بوٹیاں فصل کے ساتھ خوراک، پانی اور ہوا میں حصہ بن کر گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل میں عام طور پر دو قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں، پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی ہے جن میں کرنڈ، باتھو، لیہہ، ریواڑی،سینجی، مینا، گاجر بوٹی، شاہترہ، بلی بوٹی،گیلیم مڑی اور جنگلی پالک قابل ذکر ہیں۔ دوسری قسم میں گھاس نما نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں جن میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور چاولی قابل ذکر ہیں۔جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے بہترین وقت وہ ہے جب جڑی بوٹیوں نے 2 سے 3 پتے نکالے ہوں۔ گندم کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائی جائے یا جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ کیمیکل کنٹرول محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملہ زراعت کے مشورہ سے بھی کی جاسکتی ہے۔ کسان بیٹھک سے میڈم شائستہ قسور سینیئر زراعت آفیسر لیہ نے بھی کاشتکاروں سے خطاب کیا اور کاشتکاروں کو جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ سپرے کا عملی مظاہرہ بھی کرایا۔

