ملتان (لیہ ٹی وی)وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت سٹرس کی بحالی و ترویج کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سٹرس کی بحالی حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹرس برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اس کی ویلیو چین میں بہتری لائی جائے۔ حکومت پنجاب صوبہ میں سٹرس (ترشاوہ) پھلوں کی بحالی اور پیداوار میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ سٹرس کے باغات موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تنزلی کا شکار ہیں اور اس کے پودے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جس کے باعث سٹرس خاص طور پر کینو کے پھل کا سائز اور اس کی شیلف لائف میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹرس فیملی میں کینو خاص طور پر صوبہ پنجاب کی پہچان ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کسان پیکج کے تحت سٹرس کی بحالی کیلئے1.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس کا مقصد نہ صرف سٹرس کی سرٹیفائیڈ نرسریوں اور نئے باغات کا قیام عمل میں لانا ہے بلکہ اس منصوبہ کے تحت سٹرس کی پیداوار اور برآمدات میں بھی اضافہ کرنا مقصود ہے تاکہ ملکی معیشت کومستحکم کیا جا سکے۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت اُسامہ خان لغاری، نائب کنونئیر سٹرس ڈویلپمنٹ ٹاسک فورس پنجاب محسن شاہ نواز رانجھا،سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو اور سیکرٹری انڈسٹریز کامرس اینڈ انوسٹمنٹ عمر مسعود نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ سٹرس کی بحالی کے پروگرام کا مقصدجدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے سٹرس کے سرٹیفائیڈ پودوں کی تیاری اور کاشتکاروں کی فنی راہنمائی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے صوبہ پنجاب میں باغبانوں کی نرسریوں کو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ سٹرس کے سرٹیفائیڈ پودوں کے ذریعے پیداوار اور معیار میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سٹرس زوننگ کی جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سٹرس کے پوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں کمی کیلئے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ باغبانوں کو پودوں کی مناسب وقت پر شاخ تراشی بارے فنی راہنمائی فراہم کی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ سرگودھا کو مزید فعال کرنے کے لئے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ بہتر اقسام کے بیج اور نئی تکنیکیں متعارف کروا کر پیداوارمیں اضافہ کیا جا سکے۔ مزید برآں، سٹرس کی پروسیسنگ اور پیکجنگ کے معیار کو عالمی سطح پر مستند بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔اس ضمن میں سرگودھا میں ایک بڑے رقبے پر سٹرس بحالی کیلئے ٹارگٹڈ پروگرام شروع کیا جائے۔مزید براں، سٹرس کے باغات کے لئے نئے علاقے مثلاً تھل، ڈی جی خان وغیرہ کا جامع سروے کیا جائے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت نے سٹرس کی بحالی کیلئے نائب کنونئیر محسن شاہ نواز رانجھا کی سربراہی میں سب کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب نے سٹرس کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد قابل عمل تجاویز کو حتمی سفارشات کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو منظوری کیلئے بھجوانے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ سٹرس کے معیاری اور کم قیمت پودوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ سٹرس کے باغات میں بیماریوں کے انسداد کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ پیداوار کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ حکومت پنجاب مختلف نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے تحت جدید سٹرس باغات اور پروسیسنگ یونٹس کا قیام عمل میں لانے کیلئے کوشاں ہے جس سے کاشتکاروں کو تکنیکی معاونت فراہم ہو سکے گی اور سٹرس پھل کے معیار و پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ اس موقع پر نائب کنونئیر سٹرس ٹاسک فورس پنجاب محسن شاہ نواز رانجھا پاکستان میں سٹرس کی برآمدات سالانہ 200 ملین ڈالر سے کم ہو کر130 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹرس کے باغبانوں کی فنی راہنمائی کی جائے اور سٹرس کی نئی اقسام کی دریافت کی جائیں۔اس کے علاوہ نرسریوں کے کاروبار کی سرپرستی کی جائے بالخصوص سرگودھا میں باغات کی بحالی کے لئے ڈویلپمنٹ بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اجلاس میں اسپشل سیکرٹری زراعت آغا نبیل اختر، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت پلاننگ کیپٹن(ر) وقاص رشید، ڈائریکٹر جنرلز زراعت ساجد الرحمان، نوید عصمت کاہلوں، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندگان اور سٹرس کے ایکسپورٹرز، ماہرین و دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔