تحریر: عدنان حیدر
فجر کی اذان ابھی گونجی ہی تھی کہ شوکت کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے کی چھت پر لگا پرانا پنکھا ایک عجیب سی چیں چیں کی آواز نکال رہا تھا، جیسے وہ بھی تھک چکا ہو۔ اس نے کروٹ بدلی تو برابر میں سوئی ہوئی زویا کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔ زویا، جو کبھی ایک ہنستی کھیلتی لڑکی تھی، اب وقت سے پہلے بوڑھی لگنے لگی تھی۔ مہنگائی نے اس کے چہرے کی رونق اور ہاتھوں کی مہندی، دونوں ہی چاٹ لی تھیں۔ میز پر بجلی کا بل پڑا تھا: نو ہزار آٹھ سو روپے۔ اس نے ذہن میں حساب لگایا، اگر یہ بل جمع نہ ہوا تو میٹر کٹ جائے گا اور پھر اس تپتے ہوئے کمرے میں بچوں کا دم گھٹنے لگے گا۔
وہ چپ چاپ بستر سے اٹھا اور صحن میں آگیا۔ نلکے سے پانی کھولا تو وہ بھی پائپوں کی تپش سے گرم ہو چکا تھا۔ وضو کرتے ہوئے اسے وہ دن یاد آئے جب وہ ایک ٹیکسٹائل مل میں فورمین تھا، جب مہینے کی پہلی تاریخ کو ملنے والی تنخواہ سے وہ زویا کے لیے ریشمی سوٹ اور بچوں کے لیے مٹھائی لایا کرتا تھا۔ پھر اچانک بجلی مہنگی ہوئی، اور ایک دن گیٹ پر نوٹس لگ گیا کہ فیکٹری بند ہے۔ اس دن سے شوکت کی کمر ایسی ٹوٹی کہ پھر سیدھی نہ ہو سکی۔ زویا کچن میں آئی تو اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پہلے سے زیادہ گہرے لگ رہے تھے۔ اس نے بغیر کچھ کہے چولہا جلایا، لیکن چائے کی پتی کا ڈبہ خالی تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور شوکت کی طرف دیکھا۔ "آج وہ امداد ملنی ہے نا؟” شوکت نے سر جھکا لیا۔ "ہاں، تیرہ ہزار ملیں گے۔ تم کارڈ نکال کر رکھ دو۔”
گھر سے نکلتے ہوئے اسے چھوٹے بیٹے علی نے روک لیا۔ "ابو! کیا آج آپ میرے لیے وہ ریموٹ والی کار لائیں گے؟” شوکت نے زبردستی مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اسے پتہ تھا کہ وہ کار اب ان تیرہ ہزار میں نہیں سما سکتی۔ وہ چپ چاپ گلی سے نکل گیا، جیسے کوئی چور اپنے ہی سائے سے بھاگ رہا ہو۔ جب وہ امدادی مرکز پہنچا تو وہاں کا منظر کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ تپتی ہوئی سڑک پر ہزاروں مرد اور عورتیں ایک لمبی قطار میں کھڑے تھے۔ پولیس کے جوان ہاتھ میں ڈنڈے لیے ہجوم کو پیچھے دھکیل رہے تھے۔ "پیچھے ہو جاؤ! لائن سیدھی کرو!” ایک سپاہی کی گرجدار آواز شوکت کے کانوں میں پڑی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے اندر کا انسان ایک دم سے مر گیا ہے۔ وہ بھی اس لائن کا حصہ بن گیا جہاں انسان نہیں، صرف شناختی کارڈ نمبر کھڑے تھے۔
دھوپ کی شدت بڑھتی گئی اور شوکت کا گلا پیاس سے خشک ہونے لگا۔ اس کے برابر میں ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر کھڑے تھے، جنہوں نے اپنی پرانی اچکن پہن رکھی تھی۔ "بیٹا! میں نے تیس سال بچوں کو غیرت کا سبق دیا، اور آج دیکھو میں خود کہاں کھڑا ہوں،” ماسٹر صاحب کی آنکھوں میں نمی تھی۔ گھنٹوں کے انتظار کے بعد جب اس کی باری آئی، تو اسے ایک میز کے سامنے کھڑا کیا گیا جہاں ایک نوجوان کلرک بیزاری سے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ "انگوٹھا لگاؤ۔” شوکت نے جب اس شیشے پر اپنا انگوٹھا رکھا، تو اسے لگا جیسے وہ اپنی روح کے دستاویز پر دستخط کر رہا ہو۔ کلرک نے نوٹوں کی ایک گڈی اس کے سامنے ایسے پھینکا جیسے کسی جانور کے سامنے ہڈی پھینکی جاتی ہے۔ "تیرا ہزار روپے۔ گن لو اور نکلو۔”
شوکت جب گھر کی دہلیز پر پہنچا تو اس کی جیب میں وہ نوٹ سیسے کے گرم ٹکڑے محسوس ہو رہے تھے۔ صحن میں اس کی بوڑھی ماں دالان میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ "شوکت پتر! آگئے ہو؟ بڑی دیر کر دی آج تم نے۔” شوکت نے قریب جا کر ان کے گھٹنوں کو چھوا۔ اسے یاد آیا کہ ماں کے دمے کا نیا انہیلر پندرہ سو روپے کا ہو چکا ہے۔ کچن سے زویا باہر نکلی، اس کے ہاتھ آٹے کے خالی ڈبے کی گرد سے بھرے تھے۔ شوکت نے خاموشی سے وہ نوٹ میز پر رکھ دیے۔ زویا نے حساب لگانا شروع کیا، "نو ہزار آٹھ سو بجلی کا بل، باقی بچے تین ہزار دو سو۔ اس میں تمہاری ماں کی دوا آئے گی، یا بچوں کے اسکول کی فیس؟ یا پھر ہم مہینہ بھر صرف پانی پی کر گزارا کریں گے؟”
اسی دوران شوکت کا بڑا بیٹا، حماد، کمرے سے باہر نکلا۔ "ابو! سر نے کہا ہے کہ اگر کل فیس جمع نہ ہوئی تو میرا نام کاٹ دیا جائے گا۔” شوکت نے حماد کی طرف دیکھا اور پھر اپنی پھٹی ہوئی واسکٹ کی طرف۔ اسے یاد آیا کہ حماد کو پچھلے سال ایک نیا بستہ دلانے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہ ہو سکا تھا۔ رات کا کھانا خاموشی کے سائے میں کھایا گیا۔ دسترخوان پر صرف پانی نما دال تھی۔ علی جو ابھی چھوٹا تھا، نوالہ توڑتے ہوئے بولا، "امی! کیا کل ہم گوشت کھائیں گے؟” زویا نے نظریں جھکا لیں اور شوکت کو لگا جیسے لقمہ اس کے حلق میں پھنس گیا ہو۔
کھانے کے بعد شوکت گلی کے دکاندار اسلم کے پاس گیا۔ "دیکھو شوکت بھائی! پچھلا ادھار پانچ ہزار ہو چکا ہے۔ اب میں مزید سودا نہیں دے سکتا۔” شوکت نے بڑی منت سماجت کے بعد اسے دو ہزار روپے تھمائے تاکہ گھر کے لیے ایک ہفتے کا راشن مل سکے۔ واپسی پر زویا صحن میں بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ "شوکت! کیا ہم ہمیشہ ایسے ہی جئیں گے؟ کیا ہمارے بچوں کا مستقبل بھی اسی امداد کی لائن میں لگے گا؟” شوکت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ کمرے میں گیا جہاں اس کی ماں اندھیرے میں کراہ رہی تھی۔ اس نے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا جہاں وہ تیرہ ہزار روپے اب ختم ہونے کے قریب تھے۔
بجلی جا چکی تھی اور کمرہ حبس سے بھر گیا تھا۔ اس نے اندھیرے میں اپنا شناختی کارڈ ٹٹولا۔ یہ کارڈ اس کی پہچان تھا یا اس کی قید؟ وہ تیرہ ہزار روپے کی امداد جو جینے کا حوصلہ دینے کے لیے تھی، اسے ایک ایسے چکر میں پھنسا چکی تھی جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ صبح کے ملگجے اندھیرے میں شوکت نے اپنی پرانی چپل پہنی اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے اب ہر مہینے اسی تذلیل سے گزرنا ہے، اسی لائن میں لگنا ہے اور اسی انگوٹھے کے نشان سے اپنی زندگی کی قیمت لگوانی ہے۔ تیرہ ہزار روپے اب اس کی ضرورت نہیں، اس کا مقدر بن چکے تھے۔
